اسلام آباد (سب نیوز )مخصوص نشستوں سے متعلق کسی میں سپریم کورٹ فیصلے کے بعد حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن)کے رہنما ئو ں کا ردعمل سامنے آرہا ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ آج کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے، انصاف ہونا ہی نہیں چاہئے نظربھی آناچاہیے۔انھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے عام فہم ہونے چاہئیں، آج بن مانگے انصاف دیا گیا، بہم فیصلے ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا، منتخب ہونے کے بعد آزاد امیدوار کو 3 دن میں سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا تھی، آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلے میں پاکستان تحریک انصاف کوقومی و صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دے دیا۔
رانا ثنا اللہ کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے قبل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دوران پریس کانفرنس کہا کہ مختصر فیصلے سے دکھ ہوا، اتنا ہی کہوں گا کہ سنی اتحاد کونسل نے دعوی کیا تھا اور مخصوص نشستوں پر ریلیف پاکستان تحریک انصاف کو دیا گیا جو نہ فریق تھی اور نہ انھوں نے درخواست دائر کی تھی۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں پر فیصلہ سوال گندم جواب چنا ہے، سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس کا لائحہ عمل طے کریں گے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 80 ارکان نے کبھی کسی فورم پررجوع نہیں کیا، 80 ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی، سنی اتحادکونسل کا کوئی رکن غیرمسلم نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے سامنے سرخم کریں گے، عدالت کا مختصرفیصلہ میرے تکلیف دہ ہے، عدالت سے رجوع کرنیکے حوالے سے مجھ سے پوچھا گیا، وفاقی حکومت کے تمام فیصلیکابینہ میں ہوتیہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کابینہ کے فیصلے کے بغیرکچھ نہیں کہہ سکتا، تفصیلی فیصلہ آنے تک تبصرہ کرنے کا حق محفوظ رکھوں گا، بہترفیصلے وہ ہوتے ہیں جن میں کوئی کنفیوژن نہ ہو، موجودہ حکومت کوکوئی خطرہ نہیں ہے، قومی اسمبلی میں حکومت کی اکثریت موجودہے، حکومت کو208 یا 209 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی رینکنگ میں ہماری عدلیہ کا نمبرنیچے ہے، ملک میں احتساب کے نظام کو مزید بہتر بنایا جانا چاہئے، سیاسی مقدمات نیعدالتوں کوالجھا کررکھا ہوا ہے، سیاسی جماعتیں عوام کوریلیف دینے کے بجائے مقدمات میں لگی ہوئی ہیں۔اس سے قبل رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کافیصلہ تسلیم کرتی ہے، تحریک انصاف کووہ ریلیف ملا جومانگا بھی نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری قانونی ٹیم فیصلے کاجائزہ لے رہی ہے، فیصلہ کریں گے کہ اپیل میں جائیں یا نہیں۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا کہ مبارک ہو، ذاتی پسند، بچپن کی محبت اورکرش جیت گیا، آئین، قانون اور ادارے سب کا کیا ہے؟ لاڈلے کیلئے سب جوتے کی نوک پرہی اچھے لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاڈلے کی جے ہو، ساراملک دہشتگردوں کی ڈکٹیشن اورفسادکے حوالے کردو، اتفاقا کیس سنی تحریک کا تھا، ریلیف تحریک فساد کو؟۔
