اسلام آباد:پاکستان کی ساتویں زراعت شماری “پہلا مربوط ڈیجیٹل شمار”کے لئے سینسس ماسٹر ٹرینرز (سی ایم ٹیز) کی تربیت ، کا افتتاح نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس ،اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کیا۔
ان سیشنز میں 311 سی ایم ٹیز کو 4 گروپوں میں تربیت دی جائے گی۔
تربیت مکمل ہونے کے بعد یہ سینسس ماسٹر ٹرینرز تقریبا 6500 شمار کنندگان اور 1368 سپروائزرز کو تربیت دیں گے۔ چیف سینسس کمشنر ڈاکٹر نعیم الظفر (ستارۂ امتیاز ) نے مہمان خصوصی کو خوش آمدید کہا، اس موقع پر پاکستان ادارہ شماریات کے ممبران اور سینئر افسران بھی موجود تھے۔
محمد سرور گوندل (ستارۂ امتیاز)، ممبر (سپورٹ سروسز/آر ایم)، فوکل پرسن برائے زراعت شماری نے اپنے استقبالیہ خطاب میں ملک کی تاریخ میں پہلی بار ساتویں زراعت شماری میں زرعی زمینوں، فصلوں، لائیو سٹاک اور زرعی مشینری کےایک ہی وقت میں پہلے مربوط ڈیجیٹل شمار کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے شواہد پر مبنی فیصلہ سازی اور جی ڈی پی میں اس کے کردار کو یقینی بنانے کے لیے فصلوں، لائیو سٹاک اور زرعی مشینری کے درست اعدادو شمار کی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان ادارۂ شماریات کے آپریشنل نیٹ ورک اور جدید ڈیجیٹل ڈیٹا جمع کرنے اور تربیت کے طریقوں کی تفصیلات پیش کیں۔ زراعت شماری اگست سے اکتوبر 2024 تک جاری رہے گی جس کا مقصد شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے اہم اعداد و شمار کے ساتھ پاکستان کے معاشی منظر نامے کو بہتر بنانا ہے۔
چیف سینسس کمشنرڈاکٹر نعیم الظفر نے وزیر پی ڈی اینڈ ایس آئی پروفیسر احسن اقبال کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ابتدائی سرگرمیوں کو مکمل کرنے اور تربیت اور شمار کے کی طرف بڑھنے کے سنگ میل کے حصول میں پاکستان ادارۂ شماریات ، شراکت داروں اور حکومتی تعاون کی مشترکہ کاوشوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے معیشت میں زرعی شعبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔یہ شعبہ صنعتی پیداوار اور کھپت کے ساتھ ساتھ جی ڈی پی، روزگار اور برآمدات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے غذائی تحفظ میں کردار کی وجہ سے زراعت کو عوام کے لئے لائف لائن قرار دیا۔
احسن اقبال نے نے سی ایم ٹی ٹریننگ پروگرام کے افتتاح کے موقع پر زراعت شماری ٹیم کے اہم کردار کو سراہااور زرعی اعداد و شمار اور پالیسی سازی کے درمیان تعلق پر زور دیا۔ آئندہ ساتویں زراعت شماری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے سی ایم ٹیز کو تاکید کی کہ وہ شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کے لئے درست اعداد وشمار حاصل کرنے کے لیے ٹریننگ میں بھر پور طریقے سے شرکت کریں ۔
انہوں نے موثر نفاذ کے لئے ملک بھر میں سپروائزرز اور شمار کنندگان کو یکساں تربیت کی فراہمی پر زور دیا۔
سینسس ماسٹر ٹرینرز کی یہ تربیت درست اور بروقت زرعی اعداد و شمار جمع کرنے کی ہماری کوششوں میں سنگ بنیاد ہے۔ ساتویں زراعت شماری کی کامیابی کا دارومدار ہمارے تربیت کاروں اور شمار کنندگان کی اہلیت اور لگن پر ہے۔
وفاقی وزیر نے خاص طور پر زراعت کے شعبے میں ثبوت پر مبنی پالیسیوں کے لئے اعداد و شمار کو بروئے کار لانے کے لئے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا گیا ، جہاں ترقیاتی حکمت عملی کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں درست اعداد و شمار اہم ہیں۔
پاکستان کی ساتویں زراعت شماری ماسٹر ٹرینرز کی تربیت کا افتتاح
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
