اسلام آباد(آئی پی ایس)یونائیٹڈ کونسل آف چرچز اسلام آباد کے زیراہتمام سانحہ سرگودھا میں مسیحیوں پر توہین قرآن کا جھوٹا الزام لگا کر تشدد کرنے جلاو گھیراو کرنے کے خلاف ہاتھوں میں صلیبیں اٹھا کر نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے یونائیٹڈ کونسل آف چرچز اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاسٹر سیمسن سہیل نے مطالبہ کیا کہ سرگوھا میں توہین قرآن کے جھوٹا الزام لگا کر مسیحیوں پر تشدد کرنے جلاو گھیراو کرنے کے واقعہ پر جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لاکر کڑی سے کڑی سزا دی جائے انہوں نے کہا کہ ہم مسیحی اس قانون کے خلاف نہیں لیکن ہمیشہ اس قانون کو اپنی ذاتی دشمنی یا مفاد کے لیے استعمال کرکے مسیحیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ قیام پاکستان میں اپنا کردار ادا کرنے والی اقلیتیں جو اس وقت بیس فیصد تھیں آج سرکاری اعداد وشمار کے مطابق دو فیصد رہ گئی ہیں۔ اسلام میں تو اقلیتوں کے تحفظ کی بات کی گئی ہے آئین پاکستان اقلیتوں کو تحفظ کے ساتھ انکی عبادت گاہوں اور جان مال کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے آج حکومت اس پر عملدرآمد کروانے میں ناکام کیوں ہو گئی ہے۔ مسیحی امن اور سلامتی کے دعویدار ہیں اور آج بھی ملک میں امن اور سلامتی کے لیے یہاں پر جمع ہوئے ہیں۔ چند امن اور سلامتی کے مخصوص دشمن جن کے ذاتی مفادات وطن عزیز میں امن اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
وقت ہے کہ حکومت پاکستان عدلیہ اور افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ عوام پاکستان امن اور سلامتی کے دشمنوں کو بے نقاب کرکے عبرتناک سزا دیں۔ کیا اقلیتوں کے حقوق کمزور ہیں کہ چند امن کے دشمن اس کو پاش پاش کریں۔ اگر قبل ازیں ایسے جھوٹے الزامات لگانے کے واقعات میں ملوث ذمہ داران کو سزا ملتی تو تو یہ واقعات دوبارہ نہ ہوتے توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والا خود توہین مذہب کا بڑا مجرم ہے آئین پاکستان پر پورا یقین رکھتے ہوئے حکومت ،عدلیہ اور دیگر اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک عزیز میں بسنے والی اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے-ملک پاکستان میں امن اور سلامتی کے لیے مسیحی قوم اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے کے لیے تیار ہے۔ مظاہرے کے اختتام پر ملک میں امن اور سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔
