نئی دہلی (آئی پی ایس )بھارتی سپریم کورٹ نے لا کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر انعام الرحمان پر لگائے گئے ہندو مخالف اور ملک دشمنی کے الزامات کو ڈیڑھ برس بعد غلط قرار دے دیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع اندور کے سرکاری لاکالج کے پرنسپل ڈاکٹر انعام الرحمان پر ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کی طلبہ ونگ (اے بی وی پی)نے کالج لائبریری میں ہندو اور ملک مخالف کتابیں رکھنے کے الزامات لگائے تھے۔رپورٹ کے مطابق پرنسپل پر خود نمازپڑھنے اور بچوں کو بھی نماز پڑھنے کی ترغیب دینے، لا کالج میں مسلمان اساتذہ بھرتی کرنے کا بھی الزام تھا، ان الزامات کی بنا پر مسلم پرنسپل انعام الرحمان سے حکومت نے زبردستی استعفیٰ لے لیا تھا اور ان پر مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کالج پرنسپل نے بی جے پی کے طلبہ ونگ کے الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے حکومتی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا کہ کالج پرنسپل کا معاملہ ظلم و ستم کا معاملہ لگتا ہے، دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے ایف آئی آر غیر معقول اور بے ہودہ الزام ہونے کے سوا کچھ نہیں۔بھارتی سپریم کورٹ نے ڈاکٹر انعام الرحمان پر درج کی گئی ایف آئی آر کو بیہودہ قرار دیتے ہوئے کالج پرنسپل پر لگے الزامات کو ڈیڑھ برس بعد غلط قرار دیدیا۔
