اسلام آباد،اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے وفاقی بجٹ2021-22میں سیکشن 203(A)کو متعارف کرانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کے تحت ایف بی آر کے افسران کو ٹیکس دہندگان کو گرفتار کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے جس سے ٹیکس دہندگان میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو سکتی ہے اور ان کا اعتماد متزلزل ہو گا لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے کے لئے سیکشن 203(A)کو فوری واپس لیا جائے۔
سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ موجودہ حالات میں جبکہ تاجر برادری پہلے ہی کروناوائرس کی وجہ سے متعدد مشکلات سے دوچار ہے،سیکشن203(A) جیسی شقیں متعارف کرانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس طرح کی شقیں پہلے ہی ٹیکس قانون میں موجود ہیں لہذا ان کو متعارف کرانے سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہونے کی بجائے ٹیکس دہندگان کیلئے نئے مسائل اور مشکلات پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے ٹیکس دہندگان کا اعتماد مجروع ہو گا اور پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم پاکستان عمران خان بزنس کمیونٹی کو یہ یقین دہانی کراتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت آٹومیشن کے ذریعہ ٹیکس مشینری اور ٹیکس دہندگان کے مابین براہ راست روابط کو کم سے کم کرے گی لیکن دوسری طرف ٹیکس قوانین میں ایسی شقیں ڈالی جا رہی ہے جو ٹیکس افسران کو مزید صوابدیدی اختیارات د یں گی اور جن کا غلط استعمال تاجر برادری میں مزید خوف و ہراس پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ٹیکس محصولات میں بزنس کمیونٹی کا بہت اہم کردار ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ٹیکس دہندگان کو مزید عزت و وقار دینے کے لئے نئے قوانین بنائے نا کہ ایسی شقیں متعارف کرائے جن سے ٹیکس دہندگان کی زندگی مزید مشکل ہو اور کاروبار و سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو۔ لہذا انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں نئے وفاقی بجٹ کے ذریعے متعارف کرائی گئی سیکشن 203(A) کو فوری طور پر واپس لے۔فاطمہ عظیم سینئر نائب صدر اور عبد الرحمن خان نائب صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام پہلے ہی بہت مشکل اور پیچیدہ ہے جو ملک میں ٹیکس کلچرکو فروغ دینے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیکس دہندگان کے خلاف جبری اقدامات متعارف کرانے کے بجائے حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ٹیکس نظام کو مزید آسان اور سہل بنانے پر توجہ دے اور ایسا ٹیکس نظام تشکیل دینے کی کوشش کرے جو ٹیکس دہندگان میں نیا اعتماد پیدا کرے اور کاروبار و سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو۔
