ہومپاکستاناپوزیشن نے بجٹ کو عوام کے زخموں پر نمک پاشی قرار دے دیا،حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان، اسمبلی میں شدید احتجاج

اپوزیشن نے بجٹ کو عوام کے زخموں پر نمک پاشی قرار دے دیا،حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان، اسمبلی میں شدید احتجاج

اسلام آباد،اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی اعدادوشمار کو جعلی اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے بجٹ پاس کرانے میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان کر دیا ، اپوزیشن رہنمائوں نے کہا ہے کہ جو بھی اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے اختلاف ہو ں گے وہ اپنی جگہ لیکن ہم نے مل کر اس بجٹ کا مقابلہ کرنا ہے، اس نالائق ، نااہل، سلیکٹڈ حکومت کا مقابلہ کرنا ہے،ہم اس حکومت کو بے نقاب کریں گے ،جس ملک میں غربت اور بے روزگاری کا بے پناہ ایک سمندر ہو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ معیشت بہتر ہو رہی ہیں یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ ، آج بدترین لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور لوگ بے ہوش ہو رہے ہیں ، یہ ساری چیزیں ہم مل کر ایوان میں پیش کریں گے، ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر ہم حکمت عملی بنائیں گے، ان خیالات کا اظہار جمعہ کو قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس طریقے سے یہ بجٹ پیش کیا گیا ، جو جو باتیں نئے وزیر خزانہ نے ملک وقوم کے سامنے رکھی تھیں، میرے خیال میں یہ کسی اور ملک کے بجٹ اور کسی اور ملک کی معیشت کے بارے میں بات کر رہے تھے، وہ ملک جہاں تاریخی غربت ، تاریخی بے روزگاری تاریخی مہنگائی کا سامنا عوام کر رہے ہیں اسی ملک کا وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اٹھ کر معاشی ترقی کی جو بات کرتے ہیں اس میں زیادہ وزن نہیں ہو تا ، عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جو بھی اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے اختلاف ہو ں گے وہ اپنی جگہ ، ہم نے مل کر اس بجٹ کا مقابلہ کرنا ہے ، اس نالائق ، نااہل، سلیکٹڈ حکومت کا مقابلہ کرنا ہے ، بلاول بھٹو نے کہا کہ اس بجٹ کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے سارے ارکان قومی اسمبلی کے ووٹ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو غیر مشروط طور پر دے رہے ہیںکہ استعمال کریں اور اس حکومت کے خلاف استعمال کریں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے یہ طے کیا ہے جتنی بھی اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں ہیں ہم مل کر ٹف ٹائم دیں گے، اس حکومت کو بے نقاب کریں گے ، انہوں نے جو جعلی اور من گھڑٹ اعداوشمار دیئے ہیں اس کو ہم بے نقاب کریں گے کہ ملک میں غریب مر رہا ہواس کو ایک وقت کی روٹی نہ ملے اور یہ کہیںکہ معیشت بہتر ہو رہی ہے، جس ملک میں غربت اور بے روزگاری کا بے پناہ ایک سمندر ہو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے ، آج بدترین لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور لوگ بے ہوش ہو رہے ہیں ، بچے بے ہوش ہو رہے ہیں، یہ ساری چیزیں ہم مل کر ایوان میں پیش کریں گے اور اس حکومت کو بجٹ پاس کروانے میں پورا ٹف ٹائم دیں گے ، اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے متعلق سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے مشاورت کی ہے اس کی لئے ہم حکمت عملی بنائیں گے ۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ شوکت ترین کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، ایوان میں ہنگامہ آ رائی ہوئی ، اپوزیشن نے شور شرابا کیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، حکومت کے خلاف پلے کارڈز لہرائے، مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی کے ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی ، مریم اورنگ زیب اور پی ٹی آ ئی کے رکن سیف الرحمن کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ، سپیکر نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو اپوزیشن ارکان کو حکومتی نشستوں سے ہٹانے کی ہدایت کی ،اپوزیشن ارکان نے نے’ ڈونکی راجہ کی سرکار نہیں چلے گی ‘،’ مک گیا تیرا شو نیازی، گو نیازی گو نیازی ‘ آٹا مہنگا ‘چینی مہنگی ہائے ہائے ‘کلبھوشن کا جو یار ہے غدار ہے ‘ گلی گلی میں شور ہے عمران خان چور ہے ، مودی کا جو یا ر ہے غدار ہے و دیگر نعرے لگائے اور وزیر اعظم عمران خان اور حکومت کے خلاف پلے کارڈز ایوان میں لہرائے جن پر آ ٹا چور،چینی چور ‘ پی ٹی آئی کا قرضستان’ کرپٹ مافیا نا منظور ‘ لوٹ کے کھا گیا پاکستان عمران خان ‘ مہنگائی خان ‘پی ٹی آئی کا مہنگائستان’ تبدیلی کے نام پر تباہی نا منظور ‘ مافیا کنگ عمران نیازی’ مودی کا جو یار ہے غدار ہے ‘ ایوان دشمن بجٹ نا منظور ‘ بجلی کی لوڈشیڈنگ نا منظور ‘ ایوان کا تیل نکال دیا’ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نا منظور ‘ کسان دشمن بجٹ نا منظور ‘ اوور بلنگ بند کرو’ و دیگر نعرے درج تھے۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان اجلاس شروع ہونے سے 5 منٹ قبل ایوان میں تشریف لے آئے ۔ ایوان میں آتے ہی پی ٹی آئی کے ارکان نے وزیر اعظم کو گھیر لیا اور ان کی نشست پر آ کر ان سے ملاقات کرتے رہے اور تصاویر بنواتے رہے۔ 4 بج کر 10 منٹ پر وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی بجٹ رتقریر شروع کی ۔ اس دوران قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف ‘ بلاول بھٹو زرداری ‘ اسعد محمود سمیت اپوزیشن کے رہنما ایوان میں داخل ہوئے اور ایوان میں موجود اپو زیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر اور نعرے لگا کر اپنے قائدین کا استقبال کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے شیر شیرکی آوازیں لگائیں۔ بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے اپنا احتجاج شروع کر دیا ۔ ڈیسک بجانا شروع کر دئیے اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شور و غوغا کرنے لگے۔ اپوزیشن ارکان نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر چینی چور ‘ پی ٹی آئی کا قرضستان’ کرپٹ مافیا نا منظور ‘ لوٹ کے کھا گیا پاکستان عمران خان ‘ مہنگائی خان ‘پی ٹی آئی کا مہنگائیستان’ تبدیلی کے نام پر تباہی نا منظور ‘ مافیا کنگ عمران نیازی’ مودی کا جو یار ہے غدار ہے ‘ ایوان دشمن بجٹ نا منظور ‘ بجلی کی لوڈشیڈنگ نا منظور ‘ ایوان کا تیل نکال دیا’ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نا منظور ‘ کسان دشمن بجٹ نا منظور ‘ اوور بلنگ بند کرو’ و دیگر نعرے درج تھے۔ اپوزیشن ارکان نے وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران مسلسل وزیر اعظم عمران خان اور حکومت کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی ۔ اپوزیشن ارکان نے ڈونکی راجہ کی سرکار نہیں چلے گی ‘ مک گیا تیرا شو نیازی ‘ آٹا مہنگا ‘چینی مہنگی ہائے ہائے ‘کلبھوشن کا جو یار ہے غدار ہے ‘ گلی گلی میں شور ہے عمران خان چور ہے ‘ بندہ نمبر 2 نیازی گو نیازی گو نیازی ‘ ایک طبقے کے 2 نیازی ‘ سوٹے والے کی سرکار نہیں چلے گی’ چرس پی کے سو نیازی سمیت دیگر نعرے بازی کی۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے ارکان شازہ فاطمہ خواجہ ‘کھل داس کوہستانی ‘ مہناز اکبرعزیز ‘ مائزہ حمید و دیگر احتجاج کی ویڈیوز بناتی رہیں۔ سپیکر نے ایوان میں ویڈیو بنانے سے روکا۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی ‘ مسلم لیگ (ن) کے ارکان وزیر خزانہ شوکت ترین کے پس منظر میں پچھلی نشستوں پر جا کر پلے کارڈز لہرائے جس پر پی ٹی آئی کے ارکان سیف الرحمن ‘ عاصمہ حدید و دیگر نے مسلم لیگ(ن) کے ارکان محمد خان ڈاہا و دیگر سے پلے کارڈز چھین کر پھاڑ دئیے۔ سپیکر نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو ہدایت کی کہ اپوزیشن ارکان کو وہاں سے اپنی نشستوں پر بھیجیں ۔ پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر و دیگر نے بچ بچائو کرایا۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ارکان اپنی نشستوں پر چلے گئے ۔ اس دوران مریم اورنگزیب اور پی ٹی آئی کے رکن سیف الرحمن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان شور شرابہ سے بچنے کیلئے مائیکرو فون لگا کر بجٹ تقریر سنتے رہے اور تسبیح بھی پڑھتے رہے۔ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران اذان شروع ہوئی اور اس دوران شوکت ترین نے تقریر روک کر نشست پر بیٹھ کر پانی پیا۔ طویل تقریر کی وجہ سے تھکاوٹ کا شکار ہو گئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ان کو ہدایت کی کہ تقریر بے شک مختصر کریں۔ شوکت ترین نے کچھ صفحات مختصر کئے اور بعد میں تقریر مکمل کی۔ انہوں نے 5 بج کر 36 منٹ پر تقریر ختم کی تو حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر خزانہ کی نشست کے سامنے جا کر ان کو مبارکباد دی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔