ہوماسلام آبادجگلوٹ میں پی اے آر سی کے انگورا ریبرٹری منصوبے کا افتتاح

جگلوٹ میں پی اے آر سی کے انگورا ریبرٹری منصوبے کا افتتاح

زراعت نہیں خوراک پر توجہ ہے،زرعی شعبے میں انقلاب برپا کرنے جا رہے ہیں،جمشید اقبال چیمہ
فوڈ پراڈکٹس کی ویلیو ایڈیشن اور پرو سیسنگ منصوبے سے ہزاروں افراد کو روزگار ملے گا، ڈاکٹر عظیم خان
گلگت/جگلوٹ (ارمان یوسف)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے فوڈ سیکورٹی جمشید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے منصوبوں کیلئے وفاقی بجٹ میں 375 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جی بی میں زراعت ،فوڈ پروسیسنگ اور انفراسٹرکچر کے شعبعوں میں انقلاب برپا کریں گے، جی بی کے ترقیاتی منصوبے وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں، گلگت بلتستان میں جانوروں کہ کراس بریڈ نگ کے منصوبے کیلئے 14 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، منصوبے کی تکمیل سے علاقے میں دودھ کی پیداوار میں3 سے 4 گناہ اضافہ ہو گا۔وہ بدھ کو جگلوٹ میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے انگورا ریبرٹری منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔تقریب میں معاون خصوصی کے علاوہ وزیر زراعت گلگت بلتستان محمد کاظم محسم،چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر محمد عظیم،ڈی جی این سے آر سی سید سبطین شاہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔اس موقع پرمعاون خصوصی نے جی بی کیلئے انگورا ریبرٹری منصوبے کا افتتاع کیا ۔ریبرٹری میں ابتدائی طور پر نیپالی نسل کے خرگوش کے دس پیئرز رکھے گئے ہیں جن کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ پی اے آر سی کے سائنس دان اپنی تمام تر توجہ انسانیت کیلئے فائدہ مند اور ٹارگٹڈ ریسرچ پر فوکس کریں،گرین پاکستان موجودہ حکومت کا ٹارگٹ ہے جس کے تحت ملک بھر میں پھل دار سمیت دیگر اقسام کے پودے لگائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی 22 کروڑ ایکڑ زمین میں سے صرف پانچ کروڑ ایکٹر آباد ہے جبکہ 2 کروڑ زمین مزید آباد کی جا سکتی ہے، گلگت بلتستان اعلی میں بہترین کوالٹی کی سبز چائے پیدا ہو سکتی ہے، زرعی سائنسدانوں کو اس حوالے سے حکمت عملی پر کام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 71 سالوں میں ملک میں صرف 66 کروڑ درخت لگائے گئے جبکہ ہم نے صرف 3 سالوں میں کے پی کے میں ایک ارب درخت لگائے ہیں اور اب ملک بھر میں مزید 10 ارب درخت لگانے جا رہے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زراعت گلگت بلتستان محمد کاظم محسم نے کہا ہے کہ امید کرتے ہیں پی اے آر سی نے ماضی میں زراعت کی ترقی اور ترویج کیلئے جس طرح کوشیش کیں اگے بھی جاری رہیں گی۔جی بی میں 80 سے 90 فیصد ہائی جینک فوڈز اور آرگینک کراپس پیدا ہوتی ہیں جن کی عالمی مارکیٹ میں بہت مانگ ہے تاہم لاجسٹک اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے ان اشیا کی عالمی منڈی تک رسائی نہیں ہو پا رہی،وفاقی حکومت جی بی کو آرگینک زون قرار دے کر لاجسٹک سپورٹ اور فنڈز فراہم کرئے۔مقامی کاشتکاروں کی تربیت کا پروگرام لا رہیییں، ویلیو ایڈڈ پراڈکسٹس کی مارکیٹ تک رسائی کیلئے کام کیا جا رہا یے۔چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر محمد عظیم نے انگورا ریبٹ منصوبے کے حوالے سے بتایا کہ منصوبہ بظاہر چھوٹا نظر آتا ہے تاہم اس کے دوررس اثرات مرتب ہو گئے۔زراعت موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔جی بی میں مزید 2 نئے منصوبے شروع کرنے جا رہے ہی ۔فوڈر پراڈکٹس کی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی ٹیکنالوجی یہاں پر لا رہے ہیں۔انگورا ریبٹ اور فوڈ پراڈکٹس کی پروسیسنگ کے منصوبے میں گھریلو خواتین کا کلیدی کردار ہو گا۔جی بی میں آلو کی پیداوار بڑھانے اور بیچ پیدا کرنے کا منصوبہ بھی شروع کرنے جا رہے ہیں۔جی بی حکومت کے ساتھ مل کر لائیو سٹاک ،جڑی بوٹیوں کی پروسیسنگ اور پراڈکٹس کی عالمی مارکیٹ تک رسائی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔