اسلام آباد(ارمان یوسف)وفاقی وزارتوں ،ڈویژنز اور کارپوریشنز کی نااہلی اورسستی کے باعث مالی سال 2020-21کے دوران کھربوں روپے کے فنڈز عوامی ترقی کے منصوبوں پر خرچ نہ کئے جا سکے ،مالی سال 2020-21 کیلئے مختص6کھرب 50 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں سے ابتدائی دس ماہ جولائی تا اپریل تک وزارتوں اور کارپوریشنز سمیت 40محکموں کو پانچ کھرب 65ارب 68کروڑ97لاکھ روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے تاہم جاری فنڈز میں سے صرف تین کھرب 73 ارب 77 کروڑ 76 لاکھ روپے کے فنڈز ہی خرچ کئے جا سکے ،ترقیاتی فنڈز کے بروقت اور درست استعمال نہ ہونے کے باعث کھربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
سب نیوز کو موصول پلاننگ کمیشن کی دستاویزات کے مطابق مالی سال 2020-21میں جولائی تا اپریل کے دوران ایوی ایشن ڈویژن کو مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے 70کروڑ77لاکھ83ہزار روپے کے فنڈز جاری ہوئے جن میں سے صرف 29 کروڑ 75 لاکھ 99ہزارروپے کے فنڈز استعمال کئے جا سکے جبکہ ایوی ایشن ڈویژن کے تقریباً35سے 40کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ ہے ۔علاوہ ازیں بورڈ آف انویسٹمنٹ کیلئے مختص کردہ 8کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے صرف 2 کروڑ 47لاکھ 56ہزار روپے کے ترقیاتی فنڈز استعمال کئے جا سکے ۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تقریباً پانچ سے ساڑھے پانچ کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ ہے ۔دستاویزات کے مطابق کیبنیٹ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے ابتدائی دس ماہ کے دوران 24ارب 14کروڑ39لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 21ارب 44 کروڑ 28لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز استعمال کئے جا سکے ،یوں کیبنٹ ڈویژن کے بھی اربوں کے روپے کے فنڈز لیپس ہونے کاخدشہ ہے ۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے ابتدائی دس ماہ میں 6ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے محض تین ارب 80کروڑ 42لاکھ روپے کے فنڈز خرچ ہو سکے ۔ پاکستان کو درپیش موسمیاتی چیلنجز کے باوجود اس اہم ترین وزارت کے منصوبوں پر بھی فنڈز کا درست اور بھرپور استعمال نہ کیا جا سکا۔ علاوہ ازیں وزارت مواصلات کیلئے25کروڑ47لاکھ روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے محض 8کروڑ85لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز خرچ ہو چکے ہیں ۔وزارت دفاع کے مختلف منصوبوں کیلئے 39کروڑ66لاکھ روپے سے زائد فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 11 کروڑ86لاکھ روپے خرچ کئے جا سکے ۔وزارت دفاعی پیداوار کے مختلف منصوبوں کیلئے ایک ارب 67کروڑ91لاکھ روپے کے فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 98کروڑ56لاکھ سے زائد فنڈز خرچ ہو سکے ۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 27کروڑ14لاکھ روپے سے زائد فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 13 کروڑ 58لاکھ روپے سے زائد فنڈز استعمال کئے جا سکے ۔ وفاقی وزرات تعلیم کیلئے 8ارب63کروڑ94لاکھ روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے صرف ایک ارب 57کروڑ37لاکھ روپے کے فنڈز استعمال کئے جا سکے ۔وزارت خزانہ کیلئے 78ارب 84 کروڑ 45لاکھ روپے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 46ارب 40کروڑ76لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 28ارب 11کروڑ55لاکھ روپے کے فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 17ارب ایک کروڑ سات لاکھ روپے کے فنڈز استعمال کئے جا سکے ۔وزارت ہاؤسنگ کے منصوبوں کیلئے 9ارب49کروڑ71لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 4ارب 14کروڑ14لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔وزارت انسانی حقوق کے منصوبوں کیلئے 24 کروڑ39لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 10کروڑ46لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔وزارت صنعت وپیداوار کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے جولائی تا اپریل پہلے دس ماہ کے دوران ایک ارب 11کروڑ92لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 39کروڑ92لاکھ روپے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔ وزارت اطلاعات ونشریات کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 25 کروڑ 34لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 12کروڑ66لاکھ روپے خرچ کئے جا سکے ۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے پانچ ارب 42کروڑ55لاکھ روپے کے فنڈز جاری ہوئے جن میں سے ایک ارب 55 کروڑ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔وزارت بین الصوبائی رابطہ کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 42کروڑ8لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے ایک کروڑ10لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔وزارت داخلہ کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 11 ارب 98کروڑ37لاکھ روپے سے زائد فنڈز جاری ہوئے جن میں سے چار ارب دس کروڑ87لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔ وزارت امور کشمیر وگلگلت بلتستان کے لیے 11ارب 52کروڑ87لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جس میں سے 7 ارب 70کروڑ34لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے۔ وزارت قانون وانصاف کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 2 ارب 36 کروڑ 26 لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 25کروڑ32لاکھ روپے کے فنڈز استعمال کئے جا سکے ۔ وزارت سمندری امور کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 4ارب 79کروڑ26لاکھ روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے تین ارب 92 کروڑ 18لاکھ روپے کے فنڈز استعمال کئے جا سکے ۔ وزارت انسداد منشیات کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے4کروڑ36لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں تین کروڑ49لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔ وزارت فوڈ سیکیورٹی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 9 ارب 89 کروڑ 45لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے چار ارب 74کروڑ46لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز استعمال کئے جا سکے ۔ وزارت قومی صحت کیلئے 12ارب 72کروڑ29لاکھ روپے کے فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 6ارب73کروڑ20لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔وزارت قومی ورثہ وثقافت کیلئے17کروڑ56لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے محض ایک کروڑ20لاکھ کے فنڈز استعمال کئے جا سکے ۔ پاکستان نیوکلیئر ریگورلیٹری اتھارٹی کیلئے32کروڑ37لاکھ روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 25کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔ وزارت پیٹرولیم کیلئے ایک ارب 33 کروڑ 95 لاکھ روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 90کروڑ41لاکھ روپے کے فنڈز خرچ ہوسکے ۔ وزارت منصوبہ بندی وترقی کیلئے ایک 13 ارب81کروڑ29لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 6ارب94کروڑ80لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔ وزارت تخفیف غربت کیلئے دس کروڑ56لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 4کروڑ57لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔ وزارت ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 16ارب 47کروڑ80لاکھ روپے کے ترقیاتی روپے جاری ہوئے جن میں سے 12ارب 92کروڑ32لاکھ کے ترقیاتی فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔ وزارت مذہبی امور کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے پانچ کروڑ39لاکھ 50 ہزار روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 2کروڑ90لاکھ روپے ہی خرچ ہوسکے ۔ وزارت اقتصادی امور کے منصوبوں کیلئے8ارب96کروڑ46لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 8ارب17کروڑ76لاکھ روپے خرچ کئے جا سکے ۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے منصوبوں کیلئے 2ارب48کروڑ78لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 37 کروڑ56لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز خرچ ہو سکے جبکہ وزارت آبی وسائل کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 70ارب 69 کروڑ29لاکھ روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 43ارب 96کروڑ98لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز استعمال کئے جا سکے ۔ فنڈز کے بروقت استعمال کے معاملے میں کارپوریشنز بھی وزارتوں سے پیچھے نہ رہیں ۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک کھرب 15ارب 38کروڑ93لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری ہوئے جن میں سے صرف 79ارب ایک کروڑ 58لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔ این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے منصوبوں کیلئے 49ارب 79کروڑ42لاکھ روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 43ارب 24کروڑ93لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔علاوہ ازیں خصوصی علاقوں کیلئے مختص کردہ فنڈز کا بھی بھرپور استعمال نہ کیا جا سکا۔آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 23ارب 39کروڑ72لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے 19ارب 21کروڑ16لاکھ روپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ۔ گلگت بلتستان کیلئے 13ارب 66 کروڑ 91لاکھ روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے جن میں سے محض 11ارب6کروڑ91لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز خرچ کئے جاسکے ۔دستاویزات کے مطابق ایرا کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ارب 50کروڑروپے کے ترقیاتی فنڈزجاری کئے گئے جن میں سے ابتدائی دس ماہ میں ایک ارب 20کروڑروپے کے فنڈز خرچ کئے جا سکے ہیں ۔
