اسلام آباد (سب نیوز)نگران حکومت نے پے اینڈ پنشن کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں پنشن اصلاحات کا فیصلہ کر لیا ہے ۔نئی اصلاحات کے تحت وفاقی حکومت کے ملازمین ریٹائرمنٹ سے قبل سروس کے آخری 36ماہ کے دوران حاصل قابل مراعات کے 70فی صد کی بنیاد پر مجموعی پنشن کے حق دار ہوں گے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا موقف ہے کہ اس فیصلہ سے ان ملازمین میں تشویش پید اہوگی جو سروس کے آ خری سال میں ریٹائر ہوتے ہیں۔ نئی اصلاحات کے تحت قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی حوصلہ شکنی کیلئے جلد ریٹائرمنٹ پر تین سے دس فی صد تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا موقف ہے کہ بعض ملازمین کی جلد ریٹائرمنٹ کی در خواست جینوئن ہوتی ہے لہذا جر مانہ نہیں لگانا چا ہئے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے فنا نس ڈویژن کو رائے دی ہے کہ نئی اصلاحات سے سر کاری ملازمین کا مورال گرے گا اس لئے ادائیگی کا بوجھ کم کرنے کیلئے ر یٹائرمنٹ کی عمر 60سے بڑھاکر 62سال کر نے کی تجویز پر غور کیا جا ئے۔دیگر اصلاحات کے تحت پنشن میں کوئی بھی اضافہ ریٹائرمنٹ کے وقت طے کی گئی پنشن پر دیا جا ئے گا۔
خاندانی پنشن شریک حیات کی موت اس کے حق دار ہونے کے بعد صرف دس سال کی زیادہ سے زیادہ مدت تک کیلئے اہل خا ندان کے باقی افراد کیلئے قابل عمل ہوگی ۔شہدا کے کیس میں یہ مدت بیس سال ہو گی۔کوئی بچہ معذور ہو تو یہ پنشن عمر بھر کیلئے ہوگی۔کمیو ٹیشن کیلئے فار مولا 35فیصد اور 65فی صد کی شرح سے تبدیل کرکے 25فی صد اور 75فی صد کردیا جا ئے گا۔ریٹائرمنٹ کے بعد دو بارہ ملازمت کی صورت میں خواہ وہ ریگو لر ہو یا کنٹر یکٹ پنشنر صرف پنشن یا تنخواہ ایک کا حق دار ہو گا۔ایسی صورت میں جہا ں کوئی ملازم ایک سے زیادہ پنشن کا حق دار ہو جا ئے تو اسے صرف ایک پنشن لینے کا اختیار ہوگا۔پنشن میں سالانہ اضافے کا فیصلہ کنزیو مر پر ائس انڈ کس کی روشنی میں کیا جا ئے گا تاہم ایک سال میں یہ اضافہ دس فی صد سے زیادہ نہیں ہو گا۔
