ہومپاکستانپی پی اور ن لیگ خاموش رہ کراسرائیل کا ساتھ دے رہی ہیں، سراج الحق

پی پی اور ن لیگ خاموش رہ کراسرائیل کا ساتھ دے رہی ہیں، سراج الحق

پاکپتن (سب نیوز)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ بار بار وزیراعظم بننے کی خواہش رکھنے والوں نے غزہ میں ظلم پر ایک لفظ نہیں بولا، یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ اور امریکا کی ناراضی سے خائف اور ان کی نظریں ذاتی مفادات پر ہیں۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ کی بجائے اپنا نام میر جعفر و میر صادق کی فہرست میں شامل کرنے کو ترجیح دی۔ مذہب سے بالاتر ہو کر اہل فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والے دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ عوام کشمیر و فلسطین کو آزاد اور اسلامی فلاحی پاکستان چاہتی ہے تو 8فروری کو جماعت اسلامی کے انتخابی نشان ترازو پر مہر لگائیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پاکپتن میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، صدر جے آئی یوتھ رسل خان بابر، امیر ضلع رانا انیس الرحمن اور دیگر قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔ جلسہ میں خواتین و نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ امیر جماعت اتوار سے جنوبی پنجاب کے دورے کا آغاز کر رہے ہیں جہاں وہ مختلف اضلاع میں دو روزہ روڈ کاروان کی قیادت کریں گے۔سراج الحق نے کہا کہ فلسطین و اسرائیل جنگ نے دنیا بھر میں حق و باطل کی تفریق واضح کر دی، ایک طرف حق کا ساتھ دینے والے اہل غزہ کے لیے سڑکوں پر ہیں، دوسری جانب باطل کی حمایت میں حکومتیں ہیں، اس حق و باطل کے معرکہ میں تیسرا گروہ بھی سامنے آیا جو منافقین کا ہے، یہ خاموش اور نتائج کے منتظر ہیں، اہل فلسطین کو فتح ہوئی تو کہیں گے کہ ہمارا نام مسلمانوں والا ہے اور خدانخواستہ اسرائیل جیت گیا تو صہیونی لابی کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں کامیابی ملی تو اس کے قدم ارض مقدس کے بعد دیگر اسلامی ممالک تک بھی پہنچ جائیں گے، یہ ایران اور پاکستان کو بھی اپنا دشمن سمجھتا ہے، ناجائز ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو امریکا اور دنیا بھر کی یہودی لابی کی سپورٹ حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ غزہ نے کربلا کے کرداروں کی یاد تازہ کر دی۔ امام حسین نے 72ساتھیوں کے ہمراہ قربانی دی، وہ شہید ہو گئے مگر صدیوں بعد بھی زندہ ہیں، اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے ہیں کہ ہم آج کے حسینی قافلہ میں موجود ہیں، ہم نے اسلامی ممالک کے دورے کیے اور ان سے فلسطینیوں کی عملی مدد کی اپیل کی اور کہا کہ آپ نہیں جا سکتے تو ہمارے لیے راستے کھول دیں، ہم نے کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آباد میں اہل فلسطین کے حق میں ملین مارچز کیے، حکمران جماعتوں کی طرف سے خاموشی برقرار رہی۔

امیر جماعت نے کہا کہ ملک کی نام نہاد بڑی پارٹیوں نے اپنے دور اقتدار میں کرپشن کی، جائدادیں بنائیں، اپنے شہزادے شہزادیوں کا مستقبل محفوظ، قوم کا تباہ کیا، انھوں نے ملک پر قرضوں کا ہمالیہ لاد دیا، قوم کو آئی ایم ایف کی غلامی دی، اداروں کو تباہ کیا، کوئی ادارہ، عدالت لٹیروں کا احتساب نہیں کر سکی، اب قوم ووٹ کی طاقت سے ہی ان کا احتساب کر سکتی ہے۔ اگر عوام چاہتے ہیں کہ انھیں عدل و انصاف ملے، مہنگائی، بے روزگاری کا خاتمہ ہو، کشمیر آزاد ہو، فلسطین کا مقدمہ پوری طاقت سے لڑا جائے، ڈاکٹر عافیہ واپس آئے تو جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ خاموش رہنا یا ظالموں لٹیروں کا ساتھ دینا ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے، قوم نے اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنا ہے، ان کے پاس جماعت اسلامی کی صورت میں بہترین آپشن موجود ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔