سابق وزیر اطلاعات اور استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما فواد چوہدری نے انوار الحق کاکڑ کی تقری کو ملک کے لیے خوش آئند قرار دیا۔انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر انوار ایک سچے پاکستانی ہیں، وہ ایک پڑھے لکھے لیکن معتدل مزاج شخص ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے بعد پاکستان کے لیے کوئی اچھی خبر آئی ہے اور اللہ پاکستان کے لیے اس فیصلے کو مبارک کرے۔پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے نگران وزیراعظم بننے پر انوار الحق کاکڑ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نگران وزیراعظم کا معاملہ شہباز شریف پر چھوڑ دیا تھا کہ وہ قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد امیدوار نامزد کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ انوار الحق کاکڑ جکی قیادت میں الیکشن کمیشن آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد میں کامیاب رہے گا۔تاہم فیصل کریم کنڈی کے برعکس خورشید شاہ نئے نگران وزیراعظم کی حیثیت سے انوارالحق کے انتخاب سے زیادہ خوش نظر نہیں آتے۔پ
یپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے کہا کہ ہمارے علم میں نہیں تھا کہ انوار الحق کاکڑ کے نام کا فیصلہ ہوا ہے اور اگر اس عہدے کے لیے کسی اور شخص کا انتخاب کیا جاتا تو بہتر تھا۔تاہم خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں کامیاب رہتے ہیں تو انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے پانچ نام تجویز کیے تھے جس میں انوار الحق کاکڑ کا نام شامل نہیں تھا، ہم نے سلیم عباس جیلانی، کلیل عباس جیلانی، محمد ملک اور افضل خان کے نام تجویز کیے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ جس نے کسی نے بھی انوار الحق کاکڑ کا نام تجویز کیا تھا،
ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ انوار الحق کاکڑ ذہین، صاف گو اور معقول آدمی ہیں۔اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے نگران وزیر اعظم کے لیے نیک تمناں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انوار الحق کاکٹر محاذ آرائی کے بجائے تعاون کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور ہمیشہ بلوچستان کے مفادات کی اچھی طرح نمائندگی کرتے رہے ہیں۔
