ہومپاکستانملک بدامنی،لاقانونیت کی سنگین صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا ، صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر

ملک بدامنی،لاقانونیت کی سنگین صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا ، صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر

حیدرآباد،جمعیت علما پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر جمعیت مشائخ اہلسنت پاکستان کے سرپرست اعلی جماعت قادریہ جیلانیہ کے روحانی پیشوا سیدپیرغلام رضوانی شاہ جیلانی،پیر فقیر ولی محمد،سید احمد شاہ جیلانی،پیر سید عبدالرسول شاہ جیلانی،پیر میاں غلام فاروق نے پریس کلب حیدرآباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل کی تمام جماعتیں رابطے میں ہیں لیاقت بلوچ سمیت تمام قائدین،اکابرین اہلسنت اور سنی تنظیمات سے رابطے ہوئے ہیں سب اس با ت پر متفق ہیں کہ اس معاملہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کیا جائے طاقت سے کبھی کوئی مسئلہ حل ہو اہے نہ ہو گابالآخر مذاکرات کی راہ اختیار کرنی پڑتی ہے لہذا دونوں فریق اپنی روش تبدیل کریں اورلچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعہ معاملہ کو حل کریں تاکہ عوام میں پائے جانے والا اضطرات ختم ہو اور رمضان المبارک کی پر نور ساعتوں میں روحانی عبادات کا سلسلہ جار ی رکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہم تحریک لبیک پاکستان پر پابندی اور ان کے خلاف ظالمانہ تشدد کی پر زور مذمت کرتے ہیں ایک جمہوری جماعت پر دھشت گردی کے الزامات لگا کر دیوار سے لگانے کا عمل کسی طرح بھی درست نہیں ہے کیونکہ جن اسباب اور بنیاد پرپابندی لگائی ہے وہ تمام پارٹیوں میں پائی جاتے ہیں سیاسی جماعتوں پر دھرنے، روڈ بلاک اور پولیس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ،املاک کو نقصان پہنچانے کی بنیاد پر پابندی لگائی جاتی تو کوئی جماعت بھی باقی نہیں بچتی۔ انہوں نے کہا کہ کیا توہین رسالت کے جرم میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ غلط تھا؟ کیا اس سے پہلے ملکی معاملات کی بنیاد پر پڑوسی ملک کے سفیروں کو ملک سے نہیں نکالا گیا؟ کیا حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ احتجاج کے طریقہ کار میں غلطی ہو سکتی ہے۔اس معاملے کو بھی بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا۔ ماضی میں جن جماعتوں پر پابندی لگائی گئی وہ کالعدم جماعتیں کسی اور نام سے کام کرتی رہی ہیں انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان کی کوئی جماعت ایسی نہیں جس نے احتجاج نہ کیاہو اور اس کے نتیجے میں بدامنی اور لاقانونیت کے واقعات نہ ہوئے ہوں کیا اس سے قبل کسی اور جماعت نے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنے نہیں دئیے؟،کیا اس کے دھرنوں میں پر تشدد واقعات نہیں ہوئے؟ کیاانہوں نے پولیس کو نشانہ نہیں بنایا؟کیا انہوں نے قومی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا؟کیا ان کے احتجاج میں کیجولٹیاں نہیں ہوئیں؟،کیاان جماعتوں پر پابندیاں لگائی گئیں اگر اس طرح ہر جماعت پر پابندی لگادی جائے تو کوئی جماعت نہیں بچے گی لہذا اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور بات چیت کے ذریعہ اس کا سیاسی حل تلاش کیاجائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔