اسلام آباد:موجودہ حکومت نے اپنے آخری بجٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں مزید 400 ارب روپے کے اضافے کی تجویز، یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن پر 35 ارب کی سبسڈی اوربیت المال کو 4 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ ملک کے پسے ہوئے طبقے کی مالی مشکلات کو کم کرنا بھی اس بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غربت سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان کا ایک Flagship پروگرام ہے۔ مالی سال -22-2021 میں اس پروگرام کے لیے 250 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ موجودہ حکومت نے بجٹ 23-2022 میں 360 ارب روپے تک بڑھا دیا تھا۔ رواں مالی سال کے دوران اس مد میں 40 ارب روپے کا مزید اضافہ کر کے 400 ارب کیا گیا۔ اگلے مالی سال کے دوران حکومت نے اس مد میں 450 ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز دی ہے، اس پروگرام کے تحت چلنے والی چند اہم سکیمز مندرجہ ذیل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 24-2023 میں BISP کے تحت 93 لاکھ خاندانوں کو 8,750 روپے فی سہ ماہی کے حساب سے بینظیر کفالت کیش ٹرانسفر کی سہولت میسر ہوگی۔ جس کے لیے 346 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت یہ اعلان بھی کرتی ہے کہ آئندہ مالی سال میں افراط زر کی مماثلت سے اس میں اضافہ بھی کرے گی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کا دائرہ 60 لاکھ بچوں سے بڑھا کر تقریبا 83 لاکھ تک کیا جائے گا۔ جن میں 52 فیصد تعداد بچیوں کی ہے۔ اس مقصد کے لیے 55 ارب روپے سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔92 ہزار طالب علموں کو بینظیر انڈر گریجویٹ سکالر شپ دیا جائے گا جس کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام تمام اضلاع میں جاری رہے گا اور پروگرام سے مستفید ہونے والے بچوں کی تعداد بڑھا کر 15لاکھ کی جائے گی۔ جس کے لیے 32 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے لیے 35 ارب روپے سے مستحق افراد کے لیے آئے، چاول، چینی، دالوں اور گھی پر Targeted Subsidy دی جائے گی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مستحق افراد کے علاج اور امداد کے لیے پاکستان بیت المال کو 4 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ یونانی ادویات عام طور پر دیہاتی اور کم آمدنی والے افراد استعمال کرتے ہیں جن کی سہولت کے لیے یونانی ادویات پر سیلز ٹیکس کی شرح 1 فیصد کی جارہی ہے۔
