اسلام آباد(آئی پی ایس )عالمی مالیاتی ادارے کی نگرانی میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حکومت کی جانب سے سیاسی اور معاشی بحران کے دوران الیکشن سال 2024-2023 کا 750 ارب روپے خسارے کا 14 ہزار 500 ارب روپے کا آخری بجٹ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار قومی اسمبلی میں پیش کر رہے ہیں۔ سپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر نے بھی شرکت کی۔
بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خدائے بزرگ و برتر کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ مجھے اس معزز ایوان کے سامنے Coalition Government کا دوسرا بجٹ برائے مالی سال 24-2023 پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ جناب اسپیکر !اس سے پہلے کہ میں مالی سال 24-2023 بجٹ کے اعداد و شمار اس معزز ایوان کے سامنے پیش کروں، میں آپ کی اجازت سے میاں محمد نواز شریف کی بطور وزیر اعظم حکومت 2013-17 اور تحریک انصاف کی نا اہل حکومت 22-2018 کا ایک تقابلی جائزہ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ مالی سال 17-2016 تک وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 6.1 فیصد پر پہنچ چکی تھی۔
افراط زر کی شرح 4 فیصد تھی۔ کھانے پینے کی اشیا کی مہنگائی میں سالانہ اوسطا اضافہ صرف 2 فیصد تھا۔ پالیسی ریٹ 5.5 فیصد اور فیصد اور سٹاک ایکسچینج ساوتھ ایشیا میں نمبر 1 اور پوری دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔ پاکستان خوشحالی اور معاشی ترقی کی جانب گامزن تھا اور دنیا پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی معترف تھی۔ گلوبل ادارہ (Price Waterhouse Coopers (PWC کی projection کے مطابق سال 2030 تک پاکستان 2010-G کا رکن بننے یعنی دنیا کی 20 سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہونے جا رہا تھا۔ پاکستانی روپیہ مستحکم اور زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر کا بلند ترین تاریخی ریکارڈ قائم کر چکے تھے۔
