ہومبریکنگ نیوزفواد چوہدری گرفتاری کے خوف سے بھاگتے ہوئے گر گئے،، فوٹیج سب نیوز پر

فواد چوہدری گرفتاری کے خوف سے بھاگتے ہوئے گر گئے،، فوٹیج سب نیوز پر

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فواد چودھری کو فوری رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ پی ٹی آئی رہنما کی گرفتاری کیخلاف درخواست منظور کرلی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج فواد چودھری کی گرفتاری کیخلاف درخواست کی سماعت کے دوران دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔
عدالت عالیہ نے حکام کو سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی کسی اور مقدمے میں بھی گرفتاری سے روک دیا۔
عدالت سے رہائی کے بعد فواد چودھری جب اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جانے لگے تو انہیں دوبارہ گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر وہ گاڑی سے کود کر بھاگ نکلے اور دوڑتے ہوئے دوبارہ عدالتی احاطے میں داخل ہوگئے۔
فواد چودھری کو لاہور کے مقدمے میں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے ان کی آج ہی ضمانت منسوخ کی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کو بکتر بند گاڑی میں اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچایا گیا۔ وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ فواد چودھری باہر بکتر بند گاڑی میں ہیں۔ جس پر عدالت عالیہ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فواد چوہدری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا، جس پر انہیں کمرہ عدالت میں پہنچایا گیا۔


پی ٹی آئی کے وکلا بابر اعوان اور فیصل چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر جہانگیر جدون بھی سماعت کیلئے پہنچے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ کچھ حقائق عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، بایو میٹرک نہیں کرائی گئی۔ جس پر جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ جج نہیں، یہ ہم نے دیکھنا ہے کہ بایو میٹرک ہوئی ہے یا نہیں۔
بیرسٹر جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ آئی جی آفس اور لا افسران کو آرڈر کی کاپی نہیں دی گئی، فواد چوہدری کو کسی مقدمے میں گرفتار نہیں کیا گیا ہے، گرفتاری اور حراست میں فرق ہے۔
عدالت نے پوچھا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ فواد چوہدری گرفتار نہیں حراست میں ہیں؟۔ جس پر جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ گرفتاری ہوتی تو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہوتا، عدالت نے کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روکا تھا، اگر مقدمہ میں گرفتار کرتے تو میں بھی رہائی کا کہتا۔
انہوں نے کہا کہ جس پٹیشن پر گرفتاری سے روکا گیا اس میں بھی ڈی سی فریق نہیں تھے، فواد چوہدری نے اپنے کنڈکٹ سے ثابت کرنا ہے کہ وہ پرامن شہری ہیں، 9 مئی کے واقعات میں قوم کا اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم ان کے خلاف کارروائی سے تو نہیں روک رہے۔
عدالت عالیہ نے پوچھا کہ فواد چوہدری کو کب گرفتار کیا گیا؟، ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ 10 مئی کی رات سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ ریکارڈ دے دیں جس میں گرفتار کیا گیا۔ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے تھری ایم پی او کا آرڈر عدالت میں پیش کردیا۔ کارروائی کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے فواد چوہدری کا ٹوئٹ پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا کہ احتجاج میں شامل ہونا کارکنوں کا فرض ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سیاستدان بچائیں گے نہ ہی اللہ کی عدالت میں کوئی بچانے والا ہوگا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کی ویڈیو موجود ہے جس میں کارکنوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔ بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے فواد چوہدری کو گرفتاری سے روکنے کا حکم دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے آرڈر کیا تو لا افسران اور میڈیا وہاں موجود تھا، ڈپٹی کمشنر کو 9 مئی کو نہ صحیح بعد میں تو عدالتی حکم کا پتہ چل گیا تھا۔ بابر اعوان نے کہا کہ عدالت فواد چوہدری کی گرفتاری روکنے کے حکم میں توسیع کر دے، انہیں متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی مہلت دی جائے۔ عدالت عالیہ نے پوچھا کہ کیا پولیس کو گرفتاری سے روکنے کی کوئی عدالتی دستاویز دکھائی گئی تھی؟۔ بابر اعوان کا کہنا تھا کہ آرڈر سنایا گیا تو پولیس افسر نے کہا کہ مجھے انگریزی نہیں آتی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فواد چوہدری کی گرفتاری کیخلاف درخواست کی سماعت پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
اس سے قبل رہنما پاکستان تحریک انصاف فواد چوہدری نے کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 8 سے 10 ہزار لوگ گرفتار ہیں، ملک کا نقصان ہورہا ہے، بہتر ہے معاملہ صلح کی طرف جائے۔
صحافی نے سوال کیا کہ کل کہا گیا آرمی ایکٹ، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلیں گے؟، جس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپنے لوگوں کے خلاف کیسے مقدمات چلائیں گے؟، سیاسی درج حرارت نیچے نہیں آرہا۔
فواد چوہدری نے بتایا کہ سی آئی ڈی بلڈنگ میں مجھے چھوٹے سے سیل میں رکھا گیا ہے، واش روم بھی ادھر ہی تھا، بہت برے حالات تھے، ہماری دیگر قیادت اڈیالہ جیل میں ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔