ہوماسلام آبادسیاسی معاملات میں مداخلت سے سپریم کورٹ کی ساکھ مجروح ہورہی ہے ،مصطفی ملک

سیاسی معاملات میں مداخلت سے سپریم کورٹ کی ساکھ مجروح ہورہی ہے ،مصطفی ملک

اسلام آباد (سب نیوز )پاکستان مسلم لیگ ق نے سپریم کورٹ کی تقسیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے نتائج کو ملک و قوم کے لیے خطرناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عدالت عظمی پاکستان کا انتہائی قابل قدر اور بلند رتبہ ادارہ ہے، اس کے وقار کو کسی جماعت کی من پسند سیاست کی نظر نہ کیا جائے

اتوار کے روز صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور ترجمان غلام مصطفی ملک نے کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں مداخلت سے عدالت عظمی کی ساکھ مجروح ہو رہی ہے، چیف جسٹس صاحب کو چاہیے کہ وہ سیاسی مقدمات میں تیزی دکھانے کی بجائے عدالتوں میں زیرالتوا لاکھوں مقدمات کا کوئی حل نکالیں،جس سے سائلین بے پناہ تکالیف میں ہیں اور انہیں کوئی امید بھی نہیں دکھائی دیتی،سپریم کورٹ کے اپنے سروے کے مطابق ملک کی مختلف عدالتوں میں 21 لاکھ کیسز التوا کا شکار ہیں۔مصطفی ملک کا کہنا تھا کہ صرف عدالت عظمی میں ہی 51 ہزار 138 کیسز التوا کا شکار ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے انہوں نے کہا کہ پاکستانی ججوں کی سہولیات و مراعات دنیا کے دس اعلی ججوں میں شامل ہیں لیکن انصاف کی فراہمی کے معاملے پر ملک 124ویں نمبر پر ہے۔

بہتر ہوتا کہ چیف جسٹس صاحب لا اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان (ایل جے سی پی)کی وہ رپورٹ پڑھ لیتے جس کے اعداد و شمار کے مطابق صرف عدالت عظمی میں ہی 51 ہزار 138 کیسز التوا کا شکار ہیں جبکہ تمام ہائی کورٹس میں زیر التوا کیسز کی تعداد 2 لاکھ 93 ہزار 9 سو 47 ہے، علاوہ ازیں وفاق اور صوبوں کے ماتحت ذیلی عدالتوں میں زیرالتو کیسز کی تعداد 18 لاکھ 96 ہزار 8 سو 86 ہے۔ان کیسز میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک لاکھ 47 ہزار 5 سو 42 کیسز، سندھ ہائی کورٹ میں 93 ہزار 3 سو 35 کیسز، پشاور ہائی کورٹ میں 30 ہزار 7 سو 64 کیسز، بلوچستان ہائی کورٹ میں 6 ہزار 30 کیسز جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں 16 ہزار 2 سو 78 کیسز شامل ہیں۔اسی طرح پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں زیر التوا کیسز کی تعداد 11 لاکھ 84 ہزار 5 سو 51 ہے، سندھ میں 97 ہزار 6 سو 73، خیبرپختونخوا میں 2 لاکھ 4 زہار 30 ہے، بلوچستان 12 ہزار 8 سو 26 ہے جبکہ اسلام آباد میں ان کی تعداد 37 ہزار 7 سو 53 ہے۔ان مقدمات کے حل کے لیے کبھی چیف جسٹس صاحب اور انکے پیش رووں نے سنجیدہ کوشش نہیں کی،

مصطفی ملک نے کہا کہ ملک میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ چند ججز واضح طور پر عمران خان کو ریلیف دینا چاہتے اور انکی پارٹی کے موقف کو ہر قیمت میں جتوانا چاہتے ہیں،ایسی صورت حال میں سپریم کورٹ کے وقار کو نقصان پہنچ رہا ہے،خاص مقصد اور جماعت کو ریلیف دینے کی عجلت سیاسی ایجنڈا دکھائی دیتا ہے اور ایک جماعت کے دباو پر سیاسی وآئینی بحران پیدا کرنے کی سازش سمجھی جا رہی ہے.انہوں نے کہا کہ فریقین کے اعتراض کے بعد چیف جسٹس اور متنازعہ جج صاحبان کو بنچ ختم کردینا چاہیے تھا اور فل کورٹ بنچ تشکیل دینا چاہیے تھا، فل کورٹ بنانے کی استدعا جمہوری حق تھا جسے نہیں سنا گیا،اب جو بھی فیصلہ آیا اس سے ملک میں تقسیم مزید گہری اور انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے،مصطفی ملک نے مزید کہا کہ 26 جولائی 2022 کو بھی چوہدری شجاعت حسین کے پارٹی حق کو تسلیم نہ کرکے یک طرفہ فیصلہ دیا گیا تھا اور اس وقت بھی فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کی گئی تھی حالانکہ عدلیہ کی ساکھ کا تقاضا اور قرین انصاف یہی تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیا جاتا،لیکن عدالتی فیصلے سے قانون دان برادری، سائیلین، میڈیا اورعوام کی حصول انصاف کے لیے توقعات کو دھچکا لگا تھا اس کے باوجود ہم نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کیا تاکہ اعلی عدلیہ کی ساکھ مجروح نہ ہو، اب ایک بار عدلیہ وہی رویہ اپنا رہی ہے جو قوم کو کسی صورت قبول نہیں،مسلم لیگی راہنما نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک بھر میں ایک ہی دِن میں انتخابات ہونے چاہئیں۔ملک کی معاشی و امن و امان کی صورت حال بھی یہی کہتی ہے کہ ملک اور قوم پر مزید معاشی بوجھ نہ ڈالا جائے ۔آنہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی اورآئینی بحران کی سازش کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔