اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست کا کام قانون کی عمل داری کو یقینی بنانا ہے لیکن ٹی ایل پی کیس میں ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت و ریاست انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے مکمل تیار نہیں، ریاست کا کام قانون کی عمل داری کو یقینی بنانا ہے لیکن ٹی ایل پی کیس میں ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا کنٹرول ختم ہونے پر جتھے قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں، حکومتی رٹ ختم ہوگی تو انتہا پسند حاوی ہوجائیں گے، نکتہ نظر ہر کسی کا حق ہے لیکن کسی پر زبردستی تھوپنا درست نہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمیں امریکا، بھارت، یورپ سے کوئی خطرہ نہیں، ہمیں سب سے بڑا خطرہ اپنے آپ سے ہے، انتہا پسندی کی وجہ مدارس نہیں اسکول اور کالج ہیں جہاں سے انتہا پسندی وجود میں آئی، اسکول، کالجوں میں انتہا پسندی کی تعلیم دینے والے اساتذہ بھرتی کیے گئے اور مقامی انتظامی نظام کو بھی تباہ کردیا گیا۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو ایک بار پھر کہتا ہوں عدالت کے بجائے اسپیکر آفس آئے، اصلاحات کیلئے اپوزیشن کی تجاویز کا خیرمقدم کریں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹو ئٹر پر اپنے بیان میں فوادچوہدری نے کہا کہ ای وی ایم کے نظام کو پہلے سمجھیں، تمام خدشات دور کریں گے، اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق پر پیچھے نہیں ہٹ سکتے، یہ ہمارا انتخابی وعدہ تھا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ شریف زرداری فیملی سیاست قصہ پارینہ ہے، اب اپوزیشن میں بھی نئے کھلاڑیوں کی باری ہے، اگلے دو سال پاکستان کی تاریخ کے اگلے دو عشروں کی سیاست طے کریں گے، 1990 کی دہائی کی سیاست کا مکمل اختتام اگلے دو سالوں میں طے ہے۔
تحریک لبیک کیس میں ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑا، انتہا پسندی کی وجہ مدارس نہیں ہیں ،فواد چوہدری
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
