بیجنگ ( ما نیٹر نگ ڈیسک)
امور سنکیانگ کے حوالے سے بیجنگ میں منعقدہ 60ویں پریس کانفرنس میں سنکیانگ کی عوامی حکومت کے ترجمان شو گوئی شیانگ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جائے تو سنکیانگ میں مسائل کی بنیادی وجوہات کے حل پر توجہ دی گئی ہے، اس کے برعکس امریکہ انسداد دہشت گردی کے لیے عسکری طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرتا ہے جس نے نئی دہشت گرد قوتوں کو جنم دیا ہے ۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں “امن و مفاہمت ” ریسرچ سینٹر کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 20 سالوں میں امریکہ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے میں ناکام رہا ہے بلکہ اس سے دہشت گردی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو مزید بڑھاوا ملا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کی افغان جنگ کے باعث افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی تعداد “سنگل ڈیجٹ” سے بڑھ کر 20 سے زائد ہو چکی ہے جن میں تقریباً 10 ہزار غیر ملکی دہشت گرد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حالیہ برسوں میں ” داعش ” اور “القاعدہ” جیسی تنظیموں نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپی ممالک میں بھی کئی دہشت گرد حملے کیے ہیں ۔
ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی ہنگامہ آرائی اور نئے سماجی تنازعات کی موجب ہے، جس سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں روز بروز اضافہ ہو گا ۔
اس کے علاوہ، سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کی عوامی حکومت کے ترجمان شو گوئِی شیانگ نے بتایا کہ تمام نسلی گروہوں کے عوام کے زندگی، صحت اور ترقی جیسے بنیادی حقوق کے ہر ممکن تحفظ کے لیے انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے موئثر سدباب کا ایک سلسلہ اپنایا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ مسلسل پانچ سالوں سے دہشت گردی کا کوئی پرتشدد واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ہمیں لوگوں کے معاش کے تحفظ اور بہتری پر اصرار کرنا چاہیے۔ حالیہ برسوں میں سنکیانگ نے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری کو نمایاں اہمیت دی ہے، کئی برسوں سے مالیاتی اخراجات کا 70 فیصد سے زائد لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے پر خرچ کیا جا رہا ہے، اور روزگار سمیت تعلیم، صحت، سماجی تحفظ، اور رہائش جیسے شعبہ جات میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں۔ موجودہ معیارات کے تحت تیس لاکھ سے زائد دیہی غریب آبادی کو غربت سے نکالا گیا ہے اور سنکیانگ میں صدیوں سے درپیش مطلق غربت کا تاریخی مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ اس وقت تمام نسلی گروہوں کے لوگ اصلاحات اور ترقی کے ثمرات میں شریک ہیں، استحکام اور ہم آہنگی، امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی بسرکرنا، اور مشترکہ خوشحالی سماجی ترقی کا مرکزی دھارا بن چکی ہے، جبکہ انسداد دہشت گردی و انتہاپسندی کی وسیع بنیاد کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
