پاکستان- پرتگال بزنس فورم دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے گا: پرتگالی سفیر
. آئی سی سی آئی کی پاکستان- پرتگال بزنس فورم کے موقع پر خصوصی بی ٹو بی اجلاس منعقد کرنے کی پیشکش
آئی سی سی آئی صدر کا مضبوط کاروباری روابط، مشترکہ منصوبوں اور دوطرفہ تجارت میں تنوع پر زور
اسلام آباد: پاکستان میں پرتگال کے سفیر ایچ ای پاؤلو ڈومنگیوز نے پاکستان اور پرتگال کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں ممالک کے تجارتی وفود کے باقاعدہ اور زیادہ سے زیادہ تبادلوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی معیشتوں میں ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، جسے مؤثر کاروباری روابط کے ذریعے مضبوط تجارتی شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد ذکریا اکبر ضیاء سے پرتگالی سفارت خانے میں ملاقات کے دوران کیا. پرتگالی سفیر نے ٹیکسٹائل، توانائی، معدنیات، ادویہ سازی، ٹیکنالوجی، زراعت، پھلوں کی کاشت اور جدت طرازی کو دوطرفہ تعاون کے اہم شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی روابط ان شعبوں میں باہمی فائدے کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
سفیر پاؤلو ڈومنگیوز نے آئی سی سی آئی کے صدر کو 22 اور 23 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے آئندہ پاکستان پرتگال بزنس فورم کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جس میں پرتگال کے وزیر خارجہ شرکت کریں گے۔ اس فورم میں دونوں ممالک کی وزارت خارجہ، تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے ٹھوس مواقع تلاش کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پرتگال اپنے اپنے خطوں اور وسیع تر عالمی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے اہم جغرافیائی اور تجارتی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان مضبوط تجارتی روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کی کاروباری برادری سے براہ راست ملاقات اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے عملی امکانات پر تبادلہ خیال کے لیے جلد آئی سی سی آئی کا دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
اس موقع پر آئی سی سی آئی کے صدر محمد ذکریا اکبر ضیاء نے پاکستان اور پرتگال کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی حقیقی معاشی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو روایتی تجارتی سرگرمیوں سے آگے بڑھتے ہوئے مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری کی شراکت داری اور تجارتی تعلقات میں تنوع پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے پرتگالی سفارت خانے پر زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان مضبوط کاروباری روابط کے قیام، پاکستانی برآمد کنندگان کی پرتگالی منڈی تک رسائی بہتر بنانے اور ٹیکسٹائل کے روایتی شعبے سے ہٹ کر دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی اور پرتگالی سفارت خانہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان مؤثر پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں، جس کے ذریعے براہ راست رابطوں، مارکیٹ سے متعلق معلومات کے تبادلے اور قابل اعتماد کاروباری شراکت داروں کی تلاش میں مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔
محمد ذکریا اکبر ضیاء نے کہا کہ آئی سی سی آئی پاکستان پرتگال بزنس فورم کے موقع پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی اور پرتگالی تاجروں کے درمیان خصوصی بزنس ٹو بزنس (B2B) اجلاس منعقد کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس سے دونوں ممالک کے کاروباری افراد کو براہ راست رابطے قائم کرنے، سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے اور مشترکہ منصوبوں کی بنیاد رکھنے کا بہترین موقع ملے گا۔ پرتگالی سفیر پاؤلو ڈومنگیوز نے اس تجویز کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں اسے عملی شکل دینے کے لیے بھرپور کوششوں کی یقین دہانی کرائی۔
دوطرفہ دوستانہ تعلقات کو ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ ادارہ جاتی تعاون اور نجی شعبوں کے درمیان مسلسل روابط دونوں ممالک کے لیے خوشحالی کے نئے راستے کھول سکتے ہیں۔ ملاقات میں آئی سی سی آئی کے ممبر لیاقت تھتال بھی موجود تھے۔
