لاہور (سب نیوز)چیئرمین پاکستان علما کونسل طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ مولانا فضل الرحمان کا فون سنیں، ایسی کمیٹی بنائیں جو وزارت کے برابر ہو، انہیں اس کا چیئرمین بنا دیں، انہیں جہاز استعمال کرنے کی اجازت دے دیں، ریاست میں مولانا کو کچھ حصہ نہ دے کر زیادتی کی گئی، مولانا کو پہلے صدارت کا لالچ دیا، پھر دربار عالیہ میں پتا چل گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ دو دن قبل تہران گئے، یہ خبریں آ رہی ہیں کہ پاکستان ایران کیلئے بڑا فکر مند ہے، یہ حوثی کوئی اہمیت نہیں رکھتے، اللہ نے ہمیں سعودی عرب کی فوج کے ساتھ ملکر بنایا ہے، اس سے تفریق پیدا کرنے والو کو تکلیف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دستور 57 ممالک سے زیادہ مضبوط ہے، اللہ اور اللہ کے رسول کے در پر حاضری اللہ اوا اللہ کے نبی کے بغیر ممکن نہیں، یہود و انصار کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دینگے، یہ پاکستان کی فوج کو اعزاز ملنا کہ وہ تحفظ حرمین کریں، اللہ تعالی نے ایک حافظ قران کو پاکستان کا سپہ سالار بنایا، معرکہ حق میں ان کا خیال تھا کہ پاکستان کمزور ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت نے جو مکہ توسیع کے حوالے فیصلے کیے ہیں اس کے ساتھ ہیں، بلوچستان کی ماں بہنوں بیٹیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ جو دہشت گرد آپ کی بچیوں کو کالجوں سے اٹھا کر دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہو، ابھی لڑکیوں کے کالج پر حملہ کیا گیا یہ چاہتے ہیں کہ لڑکیاں تعلیم حاصل نہ کرسکیں، بلوچستان کی بیٹیوں بیٹوں سے کہتا ہوں کہ او مکالمہ کریں، جو پاکستان کے دستور کو مانتے ہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم پاکستان کے خلاف ان سازشیوں کو بتا دینا چاہتے ہیں ملک کو خراب نہیں کرنے دینگے، کے پی کے میں ایمرجنسی لگی ہے، دوست ناراض نہ ہوں، یہ وزیراعظم، گورنر کے کی پی کی زمہ داری ہے کہ وہاں امن قائم کریں، وہ حوثی اور ملکہ مکرمہ پر حملوں کو دیکھیں اور آپس کی تلخیوں کو ختم کریں، وزیراعظم نے بار بار مذاکرات کی دعوت دی ہے، سب ایک پیج پر آئیں۔چیئرمین پاکستان علما کونسل نے کہا کہ سعودی عرب کے بادشاہ اور عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ مکہ، مدینہ کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے دینے کیلئے تیار ہیں، ارض حرم شریفین پر حملہ کسی صورت قبول نہیں، یہ ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، مدارس کے اسلام آباد میں اکاونٹ کھلنے شروع ہوگئے یں، پاکستان کے دفاعی معاہدہ کا خیر مقدم کرتے ہیں، ایران نے حوثیوں سے اپنے آپ کو الگ کرنے کا اعلان کیا، اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔طاہر اشرفی نے کہا کہ پاک فوج ایک ریڈ لائن ہے، آج مولانا، نواز شریف اور ہم جہاں کھڑے ہیں، اللہ کے بعد اس ریاست کا دیا ہوا ہے، ماں باپ کے پاس علاج ہوتا ہے، مولانا جانتے ہیں کہ ماں کیسے راضی ہوتی ہے اور ریاست بھی جانتی ہے ان کو راضی کیسے کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر زرداری اور شہباز شریف سے کہوں گا کہ انہوں نے زیادتی کی جہاں دیگر لوگوں کو ان کا حق دیا انہیں بھی ان کا حق دیا جائے، مولانا پر زمہ داری آگئی ہے کہ امن کیلئے کام کریں، مولانا کی طبعیت بھی خراب رہتی ہے جب ان کا بلڈ پریشر ہائی ہو، تقریر کرنے کی بجائے انہیں آرام کرنے کا کہیں۔طاہر اشرفی نے کہا کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ ان کا فون سنیں، ایسی کمیٹی بنائیں جو وزارت کے برابر ہو، انہیں اس کا چیئرمین بنا دیں، انہیں جہاز استعمال کرنے کی اجازت دے دیں، ریاست میں مولانا کو کچھ حصہ نہ دے کر زیادتی کی گئی، مولانا کو پہلے صدارت کا لالچ دیا، پانچ فروری کو دربار عالیہ میں پتا چل گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
