اسلام آباد (سب نیوز): پاکستان کے سینئر سفارتکار اور نیپال میں سابق پاکستانی سفیر ابرار ایچ ہاشمی نے کہا ہے کہ او آئی سی اور ڈی ایٹ رکن ممالک کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
ابرار ایچ ہاشمی نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں اسلام آباد میں کامسٹیک سیکریٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں ان کی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، ان کی ٹیم اور ال آر سی ایس او (AlRCSO) کے دورہ کرنے والے وفد کے ساتھ مفید ملاقات اور تبادلہ خیال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کامسٹیک کی کوششوں کو آگے بڑھانے اور ڈی ایٹ تنظیم کے ساتھ حال ہی میں دستخط کیے گئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
مذاکرات میں نیٹ ورک آف پائنیئر ریسرچ اینڈ انوویشن (NPRI) کے دائرہ کار اور سرگرمیوں کو وسعت دینے پر بھی غور کیا گیا۔ یہ نیٹ ورک او آئی سی اور ڈی ایٹ کے رکن ممالک کی 31 جامعات کو منسلک کرتا ہے اور صحت، توانائی، زراعت، ماحولیات اور معدنیات سمیت اہم شعبوں میں تحقیق و جدت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔
ابرار ایچ ہاشمی کے مطابق ملاقات میں مختلف شعبوں میں قائم مراکزِ امتیاز (Centres of Excellence) کے درمیان تبادلوں، تجربات کے اشتراک اور باہمی سیکھنے کے مواقع پر بھی گفتگو ہوئی۔
خصوصاً نینو ٹیکنالوجی اور اسٹیم سیلز کے شعبوں میں ڈی ایٹ اور او آئی سی ممالک میں ہونے والی تحقیق سے استفادہ کرنے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے امکانات زیر بحث آئے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے روابط اسلامی دنیا میں سائنسی ترقی، جدید تحقیق، اختراع اور پائیدار ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ ملاقات کامسٹیک، ڈی ایٹ تنظیم اور او آئی سی کے پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان اور اسلامی ممالک کے درمیان سائنسی و تحقیقی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
او آئی سی اور ڈی ایٹ ممالک کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
