ہومپاکستانان ڈرائیو اور ٹیک ویلی کا ڈرائیوروں کے بچوں میں ڈیجیٹل تحفظ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی کیلئے’’ڈیجیٹل سفر‘‘ کے آغاز کا اعلان

ان ڈرائیو اور ٹیک ویلی کا ڈرائیوروں کے بچوں میں ڈیجیٹل تحفظ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی کیلئے’’ڈیجیٹل سفر‘‘ کے آغاز کا اعلان

اسلام آباد:: عالمی موبلٹی اور شہری سہولیات فراہم کرنے والے پلیٹ فارم ان ڈرائیو (اِن ڈرائیو) نے گوگل فار ایجوکیشن کے پریمیئر پارٹنر ٹیک ویلی (ٹیک ویلی) کے اشتراک سے پاکستان میں ان ڈرائیو کے ڈرائیوروں کے بچوں کے لیے مفت آن لائن پروگرام ’’ڈیجیٹل سفر‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد بچوں میں انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق آگاہی اور مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔

تین ہفتوں پر مشتمل اس پروگرام کے تحت چھٹی سے دسویں جماعت تک کے 300 بچوں کو اردو میں براہ راست آن لائن کلاسوں کے ذریعے تربیت دی جائے گی۔ شریک بچوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے تعارفی نشست 17 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگی، جبکہ کلاسوں کا آغاز 19 اکتوبر سے ہوگا اور یہ سلسلہ 9 نومبر 2026 تک جاری رہے گا۔

اس موقع پر وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر نے کہا کہ بچے انٹرنیٹ سے اس وقت واقف ہوجاتے ہیں جب انہیں اس کے محفوظ استعمال کے بارے میں باقاعدہ تعلیم بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ ’’ڈیجیٹل سفر‘‘ جیسے پروگرام اس خلا کو پر کرنے میں مدد دیتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے بچوں کو آن لائن محفوظ رہنے اور مصنوعی ذہانت کو تعلیم و سیکھنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، نہ کہ محنت سے بچنے کے شارٹ کٹ کے طور پر۔ انہوں نے کہا کہ ایک نجی پلیٹ فارم، مقامی ٹیکنالوجی کمپنی اور عالمی ٹیکنالوجی ادارے کا بچوں کے لیے مل کر کام کرنا خوش آئند ہے۔ امید ہے کہ اس ماڈل کو مزید اسکولوں اور خاندانوں تک وسعت دی جائے گی۔

ان ڈرائیو (اِن ڈرائیو) پاکستان کے کنٹری لیڈ اویس سعید نے کہا کہ کمپنی کے ڈرائیور اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔ ’’ڈیجیٹل سفر‘‘ کے ذریعے کمپنی اس مقصد کی تکمیل میں معاونت کرنا چاہتی ہے تاکہ ڈرائیوروں کے بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ انداز سے آگے بڑھنے، اعتماد کے ساتھ سیکھنے اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت حاصل ہو۔ ہر بچے کو، اس کے حالات سے قطع نظر، مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار ہونے کا موقع ملنا چاہیے۔

ٹیک ویلی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر فاروق نے کہا کہ ہر بچے کو ڈیجیٹل خواندگی، آن لائن تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی صلاحیتوں کے ساتھ پروان چڑھنے کا موقع ملنا چاہیے، اور یہ سہولت صرف بہترین اسکولوں تک رسائی رکھنے والے بچوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ڈیجیٹل سفر‘‘ ٹیک ویلی کے نمایاں پروگراموں میں سے ایک ہے، جس کے ذریعے گوگل کا ڈیجیٹل تحفظ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق نصاب پاکستان میں ان ڈرائیو (اِن ڈرائیو) کے ڈرائیور کے خاندانوں اور بچوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام ایسے ماڈل پر مبنی ہے جس پر پاکستان بھر میں لاکھوں طلبہ پہلے ہی اعتماد کرتے ہیں۔ یہ شراکت داری بچوں کو حقیقی مہارتیں فراہم کرنے، زیادہ سے زیادہ افراد تک رسائی اور نتائج کے حوالے سے جواب دہی کو یقینی بنانے کا ذریعہ ہے۔

ٹیک ویلی میں اے آئی اسٹریٹجی اینڈ آپریشنز کی سربراہ صبا کلثوم نے کہا کہ پروگرام کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ بچے تربیتی نشستوں کے بعد انٹرنیٹ پر اپنے رویے اور سرگرمیوں میں مثبت تبدیلی لاسکیں۔ انہیں جعلی پیغامات کی شناخت، اپنے آن لائن اکاؤنٹس کے تحفظ اور جیمنی (جیمنائی) کو محض شارٹ کٹ کے بجائے سیکھنے میں معاون ساتھی کے طور پر استعمال کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ تربیت فراہم کرنے والے ماہرین اردو میں براہ راست کلاسیں لیں گے اور پہلے دن سے ہر خاندان کو اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔

’’ڈیجیٹل سفر‘‘ میں گوگل کے ’’بی انٹرنیٹ اوسم‘‘ (Be Internet Awesome) اور ’’جیمنی اکیڈمی‘‘ (Gemini Academy) کے تعلیمی پروگراموں سے استفادہ کیا جائے گا۔ ان کے ذریعے انٹرنیٹ کے ذمہ دارانہ استعمال، آن لائن تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے محتاط و ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت انٹرایکٹو سرگرمیوں، گروپ مباحثوں اور عملی مشقوں کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے ’’بی انٹرنیٹ اوسم‘‘ پروگرام میں عملی ڈیجیٹل تحفظ پر توجہ دی جائے گی۔ کھیلوں، گروپ مباحثوں اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو معلومات ذمہ داری سے شیئر کرنے، جعلی اور فشنگ پیغامات کی شناخت کرنے اور اپنے آن لائن اکاؤنٹس محفوظ بنانے کے طریقے سکھائے جائیں گے۔ آخری سرگرمی میں طلبہ حقیقی اور جعلی پیغامات میں فرق کرنے کی مشق کریں گے اور ایسا مضبوط پاس ورڈ بنائیں گے جسے وہ یاد بھی رکھ سکیں۔

آٹھویں سے دسویں جماعت کے طلبہ کے لیے ’’جیمنی اکیڈمی‘‘ پروگرام میں مصنوعی ذہانت کے ٹول جیمنی کو سیکھنے میں معاون کے طور پر استعمال کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات کا تنقیدی جائزہ لینے کی تربیت دی جائے گی۔ طلبہ سیکھیں گے کہ اے آئی سے حاصل ہونے والے جوابات کا والدین اور اساتذہ کی رہنمائی سے موازنہ کیسے کیا جائے، کن حالات میں مصنوعی ذہانت کے مشورے پر اعتماد کیا جاسکتا ہے اور اپنی ڈیجیٹل شناخت کیسے تشکیل دی جائے۔ اس پروگرام کے اختتام پر طلبہ جیمنی کی مدد سے اپنی ذاتی ’’ڈیجیٹل شہریت کی کتابچہ‘‘ (Digital Citizenship Booklet) تیار کریں گے، جس میں آن لائن تحفظ کے اصول، ڈیجیٹل عادات اور پیغامات ان کے اپنے الفاظ میں شامل ہوں گے۔

’’ڈیجیٹل سفر‘‘ پاکستان میں اپنے ڈرائیوروں کے بچوں اور مقامی آبادیوں کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کی تعلیم کے مواقع بڑھانے کی ان ڈرائیو (inDrive) کی کوششوں کا ابتدائی قدم ہے۔ کمپنی ڈیجیٹل مہارتوں اور ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی پر مبنی پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع کو مزید قابل رسائی بنانا چاہتی ہے۔ یہ اقدام ناانصافی کو چیلنج کرنے اور منصفانہ انتخاب کے مواقع فراہم کرنے کے کمپنی کے مشن کا حصہ ہے، جس کے تحت ان ڈرائیو (inDrive) اپنی توجہ سفری سہولیات سے آگے بڑھاتے ہوئے نئی نسل کو تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی دنیا کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔