ہومپاکستانپاکستان ڈیجیٹل معیشت کو جامع معاشی تبدیلی کے ایجنڈے کے طور پر آگے بڑھا رہا ہے،وفاقی وزیر احسن اقبال

پاکستان ڈیجیٹل معیشت کو جامع معاشی تبدیلی کے ایجنڈے کے طور پر آگے بڑھا رہا ہے،وفاقی وزیر احسن اقبال

ارمچی(سب نیوز)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت کو محض ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ اسے جامع معاشی تبدیلی کے ایجنڈے کے طور پر آگے بڑھا رہا ہے جس کے تحت برآمدات، پیداوار، جدت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔وہ منگل کو چین کے شہر ارمچی میں 2026 شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او)ڈیجیٹل اکانومی فورم سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل صارفین کی تعداد 15 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران ڈیٹا کے استعمال میں تقریبا 25 فیصد اضافہ ہوا ، ملک میں فائبر کنکشنز تقریبا 30 لاکھ سے بڑھ کر 50 لاکھ سے زائد ہو چکے ہیں اور وائرڈ براڈ بینڈ کو ایک کروڑ گھرانوں تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق 35 فیصد سے کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے جبکہ خواتین کے موبائل انٹرنیٹ استعمال کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ترقی میں خواتین کی بھرپور شمولیت ناگزیر ہے کیونکہ ایسی ڈیجیٹل تبدیلی جو خواتین کو پیچھے چھوڑ دے وہ نہ معاشی طور پر مثر ہوسکتی ہے اور نہ ہی سماجی طور پر منصفانہ۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی اور آئی سی ٹی برآمدات گزشتہ مالی سال ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، اگلا ہدف صرف سروسز کی برآمد نہیں بلکہ ٹیکنالوجی مصنوعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کا فروغ ہے۔انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے برآمدات، پیداوار، جدت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل پر توجہ دی جا رہی ہے، اڑان پاکستان کے پانچ بنیادی ستونوں میں شامل ای پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی کو معاشی ترقی کا اہم رکن قرار دیتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاڈ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، جدید صنعت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اپنی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے، تحقیق، ہنرمندی، نئے کاروبار اور صنعت کو باہم مربوط کرنے کے لیے ملک میں سات مصنوعی ذہانت مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے پاس وسیع منڈیاں، توانائی و معدنی وسائل، سائنسی صلاحیتیں اور نوجوان افرادی قوت کا بے مثال سرمایہ موجود ہے، ہمیں ٹیکنالوجی کے صرف صارف نہیں بلکہ ڈیجیٹل مستقبل کے تخلیق کار بننا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت چین پاکستان تعاون ترقی، روزگار، جدت، گرین انرجی اور علاقائی روابط کے پانچ اہم شعبوں پر مرکوز ہے، سی پیک 2.0 اور خصوصی اقتصادی زونز چینی ٹیکنالوجی اور پاکستانی کاروباری صلاحیت کو علاقائی منڈیوں سے جوڑ سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے ایس سی او کے لیے چار ترجیحی شعبوں میں عملی اقدامات کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے تحت ڈیجیٹل تجارتی راہداری قائم کی جائے تاکہ سرحد پار تجارت کو تیز، آسان اور کم لاگت بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کسٹمز، ترسیل، برقی تجارتی دستاویزات، ڈیجیٹل دستخط اور سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو خطے میں باہم مربوط کیا جانا چاہیے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے چین، وسطی و جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی کے درمیان اہم رابطہ بناتی ہے، ہمیں علاقائی روابط کو علاقائی مسابقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت، صنعت، کان کنی، توانائی اور دیگر شعبوں کو مزید مثر اور ترقی یافتہ بنایا جا سکتا ہے، ڈیجیٹل ترقی کا فائدہ صرف بڑے شہروں اور بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ خواتین، نوجوانوں، دیہی آبادی، چھوٹے کاشتکاروں اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کے لیے بھی مواقع پیدا ہونے چاہئیں۔وفاقی وزیر نے ایس سی او کے تحت مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور طرز حکمرانی کے مشترکہ نظام کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں مشترکہ تحقیق، کثیر لسانی ماڈلز، جامعات کے درمیان شراکت داری اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دینا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ فورم کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف اعلانات نہیں بلکہ ان سے پیدا ہونے والی تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی شراکت داری اور روزگار کے مواقع ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنے کو تیار ہے

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔