بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیَا کھون نے امریکی مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ افرادکے حالیہ بیانات پر کہا کہ جتنی تیزی سے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے،اسے انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرنے کا راستہ بھی اتنا ہی صحیح ہونا چاہیے، نگرانی اور انتظام کے پیمانے اتنے ہی درست ہونے چاہئیں اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے اقدامات بھی اتنے ہی بروقت کیے جانے چاہئیں۔ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ ترقی اور سلامتی کو یکساں اہمیت دیتا ہے، مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ہر طرح کے اندرونی اور ضمنی خطرات پر خاص توجہ دیتا ہے اور سلامتی کی مضبوط بنیاد قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ مصنوعی ذہانت محفوظ، قابل اعتماد اور کنٹرول میں رہے۔ 14 ستمبر کو، چین کے متعلقہ محکموں نے “مصنوعی ذہانت کی حفاظتی حکمرانی فریم ورک جاری کیا، جس میں ٹیکنالوجی کے جوابی اقدامات اور جامع حکمرانی کے اقدامات کو بہتر بنانے کی تجاویز دی گئیں۔ ترجمان نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور حکمرانی کا مؤثر حل صرف چند مخصوص ممالک یا کمپنیوں کی کوششوں پر انحصار کر کے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ چین ہمیشہ اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو فعال کرنے کی حمایت کرتا رہا ہے اور ہر ملک کے ساتھ مل کر منصفانہ اور مناسب عالمی مصنوعی ذہانت کے حکمرانی نظام کی تعمیر کے لیے تیار ہے۔
چین مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے اندرونی اور ضمنی خطرات پر خاص توجہ دیتا ہے، چینی وزارت خارجہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
