ہومپاکستانوزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود پولیس وین میں بیٹھ گئے، پی ٹی آئی کے اغوا کے دعوے پر عوام کی شدید تنقید

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود پولیس وین میں بیٹھ گئے، پی ٹی آئی کے اغوا کے دعوے پر عوام کی شدید تنقید

لاہور (سب نیوز)وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے لاہور میں احتجاج کے دوران پولیس وین میں خود بیٹھنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعلی کو پنجاب پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کے تاثر پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ احتجاج کے دوران سہیل آفریدی خود پولیس وین میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ پولیس اہلکار انہیں گاڑی سے باہر آنے کا کہتے ہیں، تاہم وزیراعلی وین سے اترنے کے بجائے اندر ہی بیٹھے رہتے ہیں۔بعد ازاں پولیس وین کا ڈرائیور گاڑی آگے بڑھا دیتا ہے، جس پر سہیل آفریدی چلتی گاڑی سے باہر آجاتے ہیں۔پولیس وین سے باہر آنے کے بعد وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی لکشمی چوک پہنچے، جہاں وہ فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور کارکنوں کے ہمراہ احتجاج میں شریک رہے۔
واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے سامنے آرہے ہیں۔بعض صارفین کا کہنا ہے کہ جب وزیراعلی خود پولیس وین میں جاکر بیٹھے اور اہلکاروں کے کہنے کے باوجود باہر نہیں آئے تو اسے گرفتاری قرار دینے سے قبل واقعے کے تمام پہلووں کو سامنے رکھنا چاہیے۔
دوسری جانب لاہور میں وزیراعلی کی احتجاجی سرگرمیوں کے دوران پولیس مختلف مقامات پر متحرک رہی۔ سڑکوں پر پولیس کی موجودگی اور احتجاجی کارکنوں کی نقل و حرکت کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لاہور کے بعض شہریوں نے بھی وزیراعلی کے احتجاجی دورے پر ناراضی کا اظہار کیا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم اس کے نتیجے میں عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروبار اور آمدورفت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔