ہومپاکستانسی ڈی اے اور جائیکا کے درمیان اسلام آباد کے مربوط واٹر سپلائی، سیوریج اور ڈرینج ماسٹر پلان کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

سی ڈی اے اور جائیکا کے درمیان اسلام آباد کے مربوط واٹر سپلائی، سیوریج اور ڈرینج ماسٹر پلان کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

اسلام آباد کے لیے پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ آبی انتظام کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے 36 ماہ پر مشتمل تکنیکی تعاون کا منصوبہ، 2050ء کو ہدفی سال مقرر کیا گیا

اسلام آباد : کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے درمیان آج سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) کے لیے مربوط واٹر سپلائی، سیوریج اور ڈرینج ماسٹر پلان کی تیاری کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔

یہ مفاہمتی یادداشت پاکستان اور جاپان کے درمیان تعاون میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جس کا مقصد اسلام آباد کے آبی انتظام کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا، شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو بہتر بنانا اور موجودہ و آئندہ نسلوں کے لیے پانی کے پائیدار وسائل کو یقینی بنانا ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جبکہ جائیکا کی تفصیلی منصوبہ بندی سروے ٹیم کے سربراہ مسٹر میاگاوا ماساہیتو (MIYAGAWA Masahito) نے جائیکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ تقریب میں سردار خان زمری، ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد واٹر، فخریہ انجم، جوائنٹ سیکرٹری (جاپان)، وزارتِ اقتصادی امور، اکنامک افیئرز ڈویژن اور دیگر افسران نے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں شرکت کی۔

یہ مفاہمتی یادداشت جائیکا کی تفصیلی منصوبہ بندی سروے ٹیم کی جانب سے 24 اگست سے 14 ستمبر 2026ء تک کیے جانے والے تفصیلی سروے کے بعد طے پائی ہے۔ مسٹر میاگاوا ماساہیتو کی سربراہی میں جائیکا کی ٹیم نے سروے کے دوران سی ڈی اے، اسلام آباد واٹر اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی، جس کے نتیجے میں مجوزہ تکنیکی تعاون کے منصوبے کے دائرہ کار، فریم ورک اور عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے میں مدد ملی۔

مجوزہ منصوبہ 36 ماہ کی مدت پر مشتمل ہوگا اور بنیادی طور پر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے زونز 1 تا 5 کا احاطہ کرے گا، جبکہ تفصیلی انفراسٹرکچر پلاننگ زون 1 پر مرکوز ہوگی اور زونز 2 تا 5 کا اسٹریٹجک جائزہ لیا جائے گا۔ ماسٹر پلان کے لیے 2050ء کو ہدفی سال مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد میں پانی کی فراہمی، سیوریج، صفائی اور نکاسی آب کے نظام کی ترقی کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے گی۔

مفاہمتی یادداشت کے اہم اجزاء

1۔ پانی کی فراہمی اور آبی وسائل کی ترقی

منصوبے کے تحت سطحی اور زیرِ زمین پانی سمیت موجودہ اور ممکنہ آبی وسائل کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اسلام آباد کی طویل مدتی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پائیدار ذرائع کی نشاندہی کی جا سکے۔

اس ضمن میں تربیلا ڈیم، چنوٹ ڈیم، شاہدرہ ڈیم، ڈوٹارا ڈیم اور چراہ ڈیم سے متعلق مطالعات اور آبی وسائل کی ترقی کے دیگر موجودہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ جائیکا کے سابقہ مطالعات میں نشاندہی کیے گئے متعلقہ منصوبوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

جائزے میں پانی کی طلب کی پیش گوئی، پانی کے حصول، ترسیل، ٹریٹمنٹ، ڈسٹری بیوشن، ذخیرہ، پانی کے معیار، آپریشن و مینٹیننس، اثاثہ جات کے انتظام اور پانی کے غیر محصولی ضیاع میں کمی کے امور شامل ہوں گے۔

پانی کے مختلف ممکنہ ذرائع کا مقدار، معیار، قابلِ اعتماد دستیابی، موسمیاتی خطرات، ماحولیاتی و سماجی اثرات، تخمینی لاگت اور عملدرآمد کی ضروریات کی بنیاد پر تقابلی جائزہ لیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت پانی کی فراہمی کی خدمات کو بہتر بنانے اور مرحلہ وار سرمایہ کاری کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ادارہ جاتی، مالی اور آپریشنل انتظامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

2۔ سیوریج، صفائی اور گندے پانی کا انتظام

ماسٹر پلان کے تحت اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے سیوریج اور صفائی سے متعلق ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں سیوریج سسٹم سے منسلک اور غیر منسلک دونوں علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔

اس ضمن میں سیوریج نیٹ ورکس، گندے پانی کی نکاسی اور ٹریٹمنٹ کی سہولیات، غیر مرکزی ٹریٹمنٹ سسٹمز، آن سائٹ سینیٹیشن، فیکل سلج مینجمنٹ، آبی ذخائر میں پانی کے معیار اور آپریشن و مینٹیننس کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

مطالعے کے ذریعے صفائی کی خدمات کو بہتر بنانے، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور سی ڈی اے، اسلام آباد واٹر، نجی ڈویلپرز اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے کے لیے ترجیحی اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔

نجی تعمیراتی منصوبوں کے لیے کم از کم منصوبہ بندی اور سروس کے تقاضوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مربوط اور منظم شہری ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

3۔ بارش کے پانی کی نکاسی اور سیلاب کے خطرات کا انتظام

منصوبے کے تحت قدرتی نالوں، ڈرینز، بارش کے پانی کی نکاسی کے نیٹ ورک، سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں اور مقامی سطح پر شہری سیلاب کے مسائل کا مربوط جائزہ لیا جائے گا۔

نکاسی آب کی منصوبہ بندی، دیکھ بھال کے انتظامات اور ترقی پذیر علاقوں میں بارش کے پانی کے مؤثر انتظام پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ماسٹر پلان کے ذریعے نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور شدید بارشوں اور شہری سیلاب سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے کے لیے ترجیحی اقدامات اور سرمایہ کاری کی ضروریات کی نشاندہی کی جائے گی۔

4۔ اسلام آباد واٹر کی ڈیجیٹل تبدیلی

منصوبے کا ایک اہم جزو ڈیجیٹل تبدیلی ہوگا، جس کا مقصد آپریشنل کارکردگی، سروس کے معیار، صارفین کے انتظام اور مالی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

اسلام آباد واٹر کے موجودہ ڈیٹا، ڈیجیٹل نظام اور ادارہ جاتی استعداد کا جائزہ لے کر ایک عملی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پلان تیار کیا جائے گا۔

ممکنہ اقدامات میں صارفین اور اثاثہ جات کا انتظام، میٹر ریڈنگ، بلنگ و وصولی، ڈسٹری بیوشن مینجمنٹ، اسمارٹ میٹرنگ، پانی کے رساؤ کی نشاندہی، پانی کے معیار کی نگرانی، شکایات کا ازالہ اور چھوٹے پیمانے پر مانیٹرنگ ڈیوائسز کا استعمال شامل ہوگا۔

مجوزہ ڈیجیٹل اقدامات کو سروس کی ضروریات، لاگت و افادیت، باہمی مطابقت اور پائیدار آپریشن و مینٹیننس کی بنیاد پر ترجیح دی جائے گی۔

5۔ پائلٹ سرگرمیاں اور یوٹیلیٹی مینجمنٹ کی استعداد کار

منصوبے کے تحت پانی کی فراہمی کی خدمات کو بہتر بنانے اور اسلام آباد واٹر کی یوٹیلیٹی مینجمنٹ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پائلٹ سرگرمیاں شروع کی جائیں گی۔

ان سرگرمیوں میں میٹرز کی تنصیب، پانی کی فراہمی کے اوقات، پانی کے بہاؤ، دباؤ، پانی کے معیار اور رساؤ کی نگرانی، صارفین کے ریکارڈ اور شکایات کے نظام کو بہتر بنانا اور پانی کی خدمات کی کارکردگی کا جائزہ شامل ہو سکتا ہے۔

منصوبے کے تحت مرحلہ وار میٹرڈ ٹیرف سسٹم کی جانب منتقلی کے ممکنہ فوائد، ضروریات اور موزوں وقت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ کسی بھی مرحلہ وار منتقلی پر مشاورت کے ذریعے غور کیا جائے گا، جس میں صارفین کی استطاعت، مساوی رسائی اور کمزور طبقات کی ضروریات کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

سیوریج نیٹ ورک کی صفائی اور دیکھ بھال سمیت دیگر پائلٹ سرگرمیوں کا بھی متعلقہ اداروں کی مشاورت سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

پائلٹ سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے نتائج اور تجربات کو ماسٹر پلان اور اسلام آباد واٹر کے ایکشن پلانز میں شامل کیا جائے گا۔

6۔ موسمیاتی تبدیلی، پائیداری اور ماحولیاتی تحفظ

ماسٹر پلان میں موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور اس کے اثرات میں کمی کے اقدامات شامل کیے جائیں گے تاکہ پانی کی فراہمی، سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو پائیدار بنیادوں پر منظم کیا جا سکے۔

خشک سالی، شدید بارشوں، سیلاب، زیرِ زمین پانی میں کمی اور پانی کے معیار میں بگاڑ سمیت موسمیاتی خطرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ممکنہ اقدامات میں پانی کے ذرائع میں تنوع، پانی کے رساؤ میں کمی، طلب کے مؤثر انتظام، ٹریٹ شدہ گندے پانی کا دوبارہ استعمال، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، آبی ذخائر میں زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرائی، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچہ اور قدرتی بنیادوں پر حل (Nature-based Solutions)، بشمول واٹرشیڈ مینجمنٹ، شامل ہوں گے۔

منصوبے کے تحت توانائی کی مؤثر کھپت والے پمپنگ اور ٹریٹمنٹ سسٹمز، کششِ ثقل پر مبنی نظام، قابلِ تجدید توانائی اور ماحولیاتی اثرات کم کرنے کے دیگر اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

پائیدار زیرِ زمین پانی کا استعمال، مساوی رسائی، صارفین کی استطاعت، شفافیت اور اچھی طرزِ حکمرانی بھی منصوبہ بندی کے عمل میں اہم ترجیحات ہوں گی۔

بین الادارہ جاتی رابطہ کاری کو مضبوط بنانا

مفاہمتی یادداشت کے تحت ایک جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (JCC) قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی چیئرمین سی ڈی اے کریں گے۔ کمیٹی منصوبے میں رابطہ کاری، پیش رفت کا جائزہ اور عملدرآمد کی نگرانی کرے گی، جبکہ اہم نتائج کا جائزہ لینے، بین الادارہ جاتی مسائل کو حل کرنے اور طے شدہ سفارشات پر عملدرآمد کی نگرانی کی ذمہ داری بھی انجام دے گی۔

منصوبے کی ٹیم میں سی ڈی اے اور اسلام آباد واٹر کے تکنیکی ماہرین اور جائیکا کی مشن ٹیم شامل ہوگی۔

اس منصوبے کے سلسلے میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری انتظامیہ، وزارتِ آبی وسائل، واپڈا، پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز، سمال ڈیمز آرگنائزیشن، محکمہ آبپاشی حکومت پنجاب، واسا راولپنڈی، متعلقہ صوبائی محکموں، راولپنڈی کینٹونمنٹ بورڈ، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، وزارتِ دفاع، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری، نجی ڈویلپرز، کمیونٹیز اور دیگر متعلقہ اداروں سے مشاورت کی جائے گی۔

منصوبے کے ذریعے ان اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو فروغ دیا جائے گا تاکہ موجودہ آبی وسائل کا مؤثر استعمال، پانی کے نئے ذرائع کی ترقی کے امکانات کا جائزہ، سروس ڈیلیوری میں بہتری اور ترجیحی امور کے لیے مشترکہ ایکشن پلانز تیار کیے جا سکیں۔

ادارہ جاتی انتظامات اور استعداد کار میں اضافہ

سی ڈی اے اور اسلام آباد واٹر اس منصوبے کے عملدرآمدی ادارے ہوں گے۔

ممبر (پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ)، سی ڈی اے، پراجیکٹ ڈائریکٹر جبکہ ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد واٹر پراجیکٹ مینیجر اور ڈائریکٹر واٹر ریسورس، اسلام آباد واٹر، پراجیکٹ کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔

منصوبے کے آغاز سے قبل متعلقہ اداروں کی جانب سے تکنیکی معاون عملہ نامزد کیا جائے گا۔ سی ڈی اے اور اسلام آباد واٹر جائیکا کی مشن ٹیم کے ساتھ ڈیٹا اکٹھا کرنے، تجزیے، مختلف آپشنز کی تیاری، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، ماسٹر پلان کی تیاری اور نگرانی کے تمام مراحل میں قریبی تعاون کریں گے۔

ماسٹر پلان صرف جائیکا کی مشن ٹیم کی جانب سے تیار نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے سی ڈی اے اور اسلام آباد واٹر کی بھرپور شمولیت سے مشترکہ طور پر تیار کیا جائے گا۔ اس طریقہ کار سے ادارہ جاتی ملکیت میں اضافہ ہوگا، ماسٹر پلان میں مقامی ضروریات کی بہتر عکاسی ہوگی اور آن دی جاب ٹریننگ کے ذریعے سی ڈی اے اور اسلام آباد واٹر کی تکنیکی و منصوبہ بندی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت جاپان میں تقریباً تین تربیتی پروگرامز کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ ہر پروگرام تقریباً 14 روز پر مشتمل ہوگا اور تقریباً پانچ شرکاء کو مینجمنٹ، واٹر سپلائی اور سیوریج/ڈرینج کے شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی، تاہم حتمی انتظامات منصوبے کے آغاز کے بعد طے کیے جائیں گے۔

ماحولیاتی اور سماجی پہلو

منصوبے میں ماحولیاتی اور سماجی امور کو بھی شامل کیا جائے گا، جن میں اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، معلومات کی فراہمی اور موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور سماجی اثرات کا جائزہ شامل ہے۔

ماسٹر پلان اور پائلٹ سرگرمیوں کی تیاری میں صنفی امور، صارفین کی استطاعت، کمزور طبقات کی ضروریات اور مشاورت و تکنیکی تربیت میں خواتین کی شمولیت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

یہ منصوبہ جائیکا کی ماحولیاتی و سماجی تحفظ سے متعلق رہنما اصول 2022ء کے تحت کیٹیگری B میں شامل ہے۔ اس کے تحت مختلف قابلِ عمل متبادل کا اسٹریٹجک ماحولیاتی جائزہ لیا جائے گا، جس میں ’’بغیر منصوبے‘‘ کے آپشن کو بھی شامل کیا جائے گا، جبکہ ترجیحی منصوبوں کی اسکریننگ کے ذریعے مزید ضروری ماحولیاتی و سماجی مطالعات کی نشاندہی کی جائے گی۔

عملدرآمد اور مستقبل کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی

ماسٹر پلان میں ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی فوری ضرورت، متوقع فوائد، تکنیکی موزونیت، معاشی و مالی استحکام، ماحولیاتی و سماجی اثرات، موسمیاتی لچک، تخمینی لاگت، مالی معاونت کے امکانات اور عملدرآمد کی استعداد کی بنیاد پر کی جائے گی۔

ہر ترجیحی منصوبے کے لیے متعلقہ ذمہ دار ادارے، ممکنہ مالی وسائل، عملدرآمد کا شیڈول اور آئندہ درکار مطالعات کی نشاندہی کی جائے گی۔

ماسٹر پلان میں پانی کی فراہمی، سیوریج/صفائی اور نکاسی آب کے شعبوں میں اسلام آباد واٹر کے ایکشن پلانز بھی شامل ہوں گے۔

ماسٹر پلان مستقبل کے منصوبوں کی تیاری، بجٹ سازی، مالی معاونت، عملدرآمد، نگرانی، وقتاً فوقتاً جائزے اور اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک بنیاد فراہم کرے گا۔

منصوبوں کے عملدرآمد کے لیے پاکستانی سرکاری وسائل، دوطرفہ مالی معاونت، ترقیاتی شراکت داروں کی معاونت اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مجوزہ منصوبہ جائیکا کی جانب سے مالی معاونت کو پیشگی طور پر شامل نہیں کرتا۔

تکنیکی تعاون کا منصوبہ ابتدائی طور پر مارچ 2027ء میں شروع ہونے کی توقع ہے، جب جائیکا کی مشن ٹیم کے پہلے ارکان پاکستان میں منصوبے سے متعلق سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔

سی ڈی اے، اسلام آباد واٹر اور جائیکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اسلام آباد کے پانی کی فراہمی، صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو مربوط منصوبہ بندی، تکنیکی تعاون، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور پائیدار بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔

یہ اقدام اسلام آباد میں ایک جدید، مؤثر اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ شہری آبی انتظام کے نظام کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور وفاقی دارالحکومت کو ایک منصوبہ بند، خوبصورت، پائیدار اور ماحول دوست شہر کے طور پر مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ آج اور آنے والی نسلوں کی پانی کی ضروریات کے لیے آبی وسائل کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔