بیجنگ : جاپانی حکومت کی جانب سے 2026 کا ڈیفنس وائٹ پیپر جاری کیے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیئن نے کہا کہ جاپان کے نئے ڈیفنس وائٹ پیپر میں ایک بار پھر بلاجواز چین پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، نام نہاد “چین کے خطرے” کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، تائیوان سے متعلق امور پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے کیے گئے ہیں اور چین کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کی گئی ہے۔
چین اس پر شدید عدم اطمینان اور سخت مخالفت کا اظہار کرتا ہے اور اس حوالے سے جاپان سے باضابطہ احتجاج بھی کیا جا چکا ہے۔ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ پرامن ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور دفاعی نوعیت کی قومی دفاعی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ چین کی متعلقہ فوجی سرگرمیاں مکمل طور پر جائز اور معقول ہیں۔انہوں نے کہا کہ تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے، تائیوان کا معاملہ مکمل طور پر چین کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کا حل کس طرح نکالا جائے، یہ صرف چینی عوام کا فیصلہ ہے، اس میں جاپان کو مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ دیاؤیو جزائر اور ان سے ملحقہ جزائر قدیم زمانے سے چین کا اٹوٹ حصہ رہے ہیں، جاپان جو بھی کہے یا کرے، اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔انہوں نے جاپان پر زور دیا کہ وہ اپنی جارحیت پر مبنی تاریخ پر سنجیدگی سے غور کرے، اس سے سبق سیکھے، فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بہانے تراشنا بند کرے اور غلط راستے پر مزید آگے نہ بڑھے۔
