کراچی (سب نیوز)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت بدھ کو سندھ کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں متعدد اہم پالیسی، انتظامی، معاشی اور ترقیاتی اقدامات کی منظوری دی گئی۔ ان میں 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے، کم از کم اجرت میں 7.5 فیصد اضافے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کو حکومتی ملکیتی کمپنی میں تبدیل کرنے، سندھ پیپلز ہاوسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام کو گلگت بلتستان تک توسیع دینے، نواب شاہ رانی پور(مہران ہائی وے)پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے اور گورننس و عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید موثر بنانے کے لیے متعدد ادارہ جاتی اصلاحات شامل ہیں۔
اجلاس وزیراعلی ہاوس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس اور صوبائی حکومت کے اعلی حکام نے شرکت کی۔ کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت معاشی استحکام، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سماجی تحفظ، ادارہ جاتی مضبوطی اور عوامی خدمات کی بہتری پر مبنی اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کیے گئے فیصلوں کا مقصد غذائی تحفظ کو یقینی بنانا، محنت کشوں کا تحفظ، انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور سندھ میں پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔وزیراعلی نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ کابینہ کے فیصلوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اصلاحات کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچیں۔ حکومتی اراضی کے انتظام سے متعلق مجوزہ سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ بل 2026 پر بھی کابینہ نے غور کیا، جس کا مقصد 1912 کے نوآبادیاتی دور کے قانون کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز ایکٹ، 1912 کی جگہ حکومتی اراضی کے انتظام، الاٹمنٹ اور استعمال کے لیے جدید اور شفاف قانونی نظام متعارف کرانا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت اراضی کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمتوں کا تعین، شفاف عوامی نیلامی، الاٹمنٹ کے واضح معیار، موثر نفاذ اور شکایات کے ازالے کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
یہ فریم ورک زرعی اراضی کے ساتھ ساتھ صنعتی، رہائشی، تجارتی، عوامی مفاد اور سہولتوں کے منصوبوں پر بھی لاگو ہوگا۔تفصیلی غور و خوض کے بعد وزیراعلی نے وزیر قانون، وزیر بلدیات، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جو مجوزہ قانون کا مزید جائزہ لے کر اپنی سفارشات وزیراعلی کو پیش کرے گی، جس کے بعد اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ مجوزہ قانون سے شفافیت، سرمایہ کاری، اراضی کے بہتر انتظام اور ریاستی اراضی کے موثر استعمال کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ کابینہ نے کم از کم اجرت بورڈ کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے یکم جولائی 2026 سے صوبے بھر میں کم از کم اجرت میں 7.5 فیصد اضافے کی منظوری دے دی۔ نظرثانی شدہ شرح کے تحت غیر ہنر مند مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے کر دی گئی، جبکہ نیم ہنر مند، ہنر مند اور اعلی ہنر مند کارکنوں کی اجرتوں میں بھی متناسب اضافہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ سندھ بھر کے نوٹیفائیڈ صنعتی اور تجارتی اداروں میں کام کرنے والے کارکنوں پر لاگو ہوگا۔ کابینہ نے پیپلز کمیونٹی ہیلتھ سروسز کمپنی کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری بھی دی، جس میں 20 کروڑ روپے بطور ابتدائی سرمایہ اور 2 ارب 72 کروڑ 30 لاکھ روپے کی گرانٹ شامل ہے۔
کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 42 کے تحت قائم کی گئی اس کمپنی کا مقصد کمیونٹی سطح پر بنیادی صحت کی سہولتوں کو مضبوط بنانا اور محروم آبادی تک ان خدمات کو وسعت دینا ہے۔کابینہ نے محترمہ سحر افتخار خان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (گریڈ 19)، کو کمپنی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کرنے اور آئندہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تبدیلیوں کی منظوری کا اختیار وزیراعلی کو دینے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے غذائی ضروریات پوری کرنے کی غرض سے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ کو تقریبا 16 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہوگا، جبکہ دستیاب گندم کا تخمینہ 48 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن ہے، اس کے مقابلے میں سالانہ ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ تفصیلی غور کے بعد وفاقی حکومت کے تعاون سے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے ٹاون میونسپل کارپوریشن لیاری کے محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے 254 کنٹریکٹ ملازمین کی خدمات میں 11 مارچ 2026 سے 10 مارچ 2027 تک ایک سال کی توسیع کی منظوری دی۔ ان ملازمین میں محکمہ تعلیم کے 176 اور محکمہ صحت کے 78 ملازمین شامل ہیں، جنہیں 2012-13 کے دوران کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں بھرتی کیا گیا تھا اور بعد ازاں بلدیاتی نظام کی تنظیمِ نو کے بعد متعلقہ اداروں کو منتقل کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان ملازمین کی تنخواہیں ٹان میونسپل کارپوریشن لیاری اپنے بجٹ سے ادا کرے گی اور صوبائی حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
کابینہ نے لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کے ڈیزائن، ٹینڈر دستاویزات کی تیاری اور تعمیراتی نگرانی کے لیے نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان کو مشیر مقرر کرنے کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔ نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان اس منصوبے کا تفصیلی سروے اور فزیبلٹی اسٹڈی پہلے ہی مکمل کر چکا ہے، جو لیاری ٹان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پلان 2040 کا حصہ ہے۔ کابینہ نے آف روڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخی، موٹر ڈیلرز کے لیے ہولڈنگ پیریڈ میں رعایت اور ملکیت کی منتقلی کے وقت موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کے تسلسل سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا۔ وزیراعلی نے محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کو متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کر کے تجاویز دوبارہ کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔ کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کو مکمل طور پر حکومتی ملکیتی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تاکہ ادارہ جاتی صلاحیت، منصوبوں پر عملدرآمد اور مالی استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔کمپنی، جو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت قائم کی جائے گی، موجودہ یونٹ کی جانشین ہوگی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی، گورننس، منصوبوں کی سہولت کاری اور پورٹ فولیو مینجمنٹ کی ذمہ دار ہوگی۔
کابینہ نے 8 ارب روپے مجاز سرمایہ، 2 ارب روپے ادا شدہ سرمایہ اور 50 کروڑ روپے بطور ابتدائی فنڈ کی منظوری دی۔ محکمہ خزانہ کو کمپنی کے قیام کی تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ موجودہ ڈائریکٹر جنرل یونٹ کمپنی کے پہلے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہوں گے۔ کابینہ نے سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ میں ترامیم کی بھی منظوری دی تاکہ نئی کمپنی کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس اقدام سے نجی سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید موثر بنانے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے سندھ پیپلز ہاسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام کو گلگت بلتستان تک توسیع دینے کی منظوری دی، جہاں سیلاب سے متاثرہ 196 گھروں کی تعمیرِ نو تقریبا 37 کروڑ 63 لاکھ روپے کی لاگت سے کی جائے گی۔ کابینہ نے سندھ پیپلز ہاوسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام کو گلگت بلتستان حکومت کی فراہم کردہ فہرست کی بنیاد پر تصدیق، رجسٹریشن اور رقوم کی ادائیگی کا اختیار دیا، جبکہ نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کو عملدرآمد کا شراکت دار مقرر کیا گیا۔ یہ اقدام بلوچستان میں 4 ہزار 500 گھروں کی تعمیرِ نو میں سندھ حکومت کے تعاون کے تسلسل کا حصہ ہے۔ کابینہ نے 135 کلومیٹر طویل نواب شاہ-رانی پور (مہران ہائی وے)پر بالخصوص بھاری اور تجارتی گاڑیوں کے لیے ٹول ٹیکس نافذ کرنے کی منظوری دی تاکہ سڑک کی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے مستقل وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ شہید بینظیر آباد، نوشہروفیروز اور خیرپور کو ملانے والی اس شاہراہ سے روزانہ 22 ہزار سے زائد گاڑیاں گزرتی ہیں اور اس کی دو رویہ تعمیر تقریبا 41 ارب روپے کی لاگت سے جاری ہے۔ مجوزہ ٹول نظام سے سالانہ تقریبا 2 ارب 14 کروڑ روپے مجموعی جبکہ اخراجات کے بعد تقریبا ایک ارب 48 کروڑ روپے خالص آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ آمدن شاہراہ کی دیکھ بھال، بحالی اور مزید بہتری پر خرچ کی جائے گی۔ کابینہ نے گاڑیوں کی درجہ بندی کے مطابق مقررہ ٹول ریٹ اور ٹول وصولی کے نظام کی منظوری بھی دی۔ کابینہ نے معیشت، خزانہ و صنعت، پانی، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی و ورچوئل اثاثوں سے متعلق چار اعلی سطحی اصلاحاتی ٹاسک فورسز کی تشکیل کی منظوری دی۔ ان ٹاسک فورسز میں پاکستان اور بیرون ملک کے ممتاز ماہرین معاشیات، ماہرین تعلیم، صنعت، ماحولیات اور ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل ہوں گے، جو حکومت کو پالیسی اصلاحات، ادارہ جاتی بہتری، سرمایہ کاری، اختراع اور پائیدار ترقی سے متعلق سفارشات دیں گے۔ کابینہ نے ٹاسک فورسز کو ہدایت کی کہ وہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے اپنی سفارشات پیش کریں۔ کابینہ نے ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کا روایتی نام بحال کرتے ہوئے اسے دوبارہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ قرار دینے کی منظوری دی جس کے لیے سندھ گورنمنٹ رولز آف بزنس 1986 میں ضروری ترامیم کی جائیں گی۔
یہ فیصلہ دیگر صوبوں اور وفاق میں رائج ناموں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کیا گیا۔ کابینہ نے شہید بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ فیڈرلزم کے بورڈ کی تشکیل کی منظوری دی۔ سینئر وزیر سید سردار علی شاہ کو بورڈ کا چیئرمین نامزد کیا گیا، جبکہ شہید بینظیر بھٹو کے خاندان، جامعات، دانشوروں، سول سوسائٹی اور متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندوں کو بھی بورڈ میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ کو ضروری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت کابینہ اجلاس ،5لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے، کم از کم اجرت میں 7.5فیصد اضافے کی منظوری
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
