ہومتازہ تریننیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ،  جاپان کا  ارادہ  منظر عام پر آ گیا

نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ،  جاپان کا  ارادہ  منظر عام پر آ گیا

ٹوکیو:جاپانی عسکری جارحیت کا شکار ہونے والے ممالک کے لئے 731بےشمار جنگی جرائم کی نمائندگی کرتا ہے۔ 31 جولائی کو، دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے 81 سال بعد، جاپانی حکومت نے باضابطہ طور پر نیشنل انٹیلی جنس بیورو”  قائم  کیا اور پہلی “نیشنل  انٹیلی جنس کانفرنس” بلائی، جس کی صدارت جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاپانی حکومت کی جانب سے سلامتی اور دفاع کی آڑ میں اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مربوط اور مضبوط کرنے اور جنگ کے وقت کے انٹیلی جنس سینٹرلائزیشن کے ڈھانچے کو نقل کرنے کا مقصد   اپنی   عسکریت  پسندی اور جنگی   تیاریوں کو فروغ دینا ہے، جوعلاقائی امن و استحکام کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔

 یاد رہے کہ 1911 میں جاپان نے خصوصی اعلیٰ پولیس قائم کرکے ملک  میں  ترقی پسندوں اور جنگ مخالف  گروہوں  کو بے دردی سے دبایا جبکہ بیرون ملک جارحیت اور توسیع کو فروغ دیا۔ 1940 میں، جاپان نے کیبنٹ انٹیلی جنس بیورو کے قیام کے لیے اپنے فوجی اور سیاسی انٹیلی جنس وسائل کو مربوط کیا، جس سے چین پر مکمل جارحیت اور بحرالکاہل کی جنگ کے لئے مدد فراہم  ہوئی ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد، جاپان کی جنگ کے  دوران  کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ختم کر دیا گیا تھا، لیکن عسکریت پسندی کا  مکمل محسابہ نہیں کیا  گیا ۔حال ہی میں  قائم کردہ “نیشنل انٹیلی جنس بیورو” کا   نہ صرف کردار واضح نہیں ہے  بلکہ جاپانی حکومت نے ایک آزاد تیسرے فریق کی نگرانی کا چینل قائم کرنے سے انکاربھی کردیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر پابند انٹیلی جنس طاقت آسانی سے دائیں بازو کے سیاست دانوں کے لیے سیاسی  جوڑ توڑ کا آلہ بن سکتی ہے۔ اس اقدام کو حالیہ دنوں میں جاپانی رائے عامہ کی جانب سے  بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

مسلسل 14 سالوں سے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے سے لے کر “صرف دفاع” کے اصول کو ترک کرنے، مقامی طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی ترقی و تیاری کو تیز کرنے، اور ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندیوں میں جامع نرمی اور “تین غیر جوہری اصولوں” کے خاتمے   کی  کھلے عام کوشش  تک، جاپان  پرامن آئین کی  اپنی پابندیوں سے نکلنے  میں مصروف ہے۔ موجودہ جاپانی حکومت  بتدریج اور منظم   انداز   میں دوسری عالمی    جنگ کے بعد کے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جس پر عالمی برادری کو انتہائی چوکنا رہنا چاہیے۔ عسکریت پسندی کو بحال کرنے یا امن کی لکیر کو عبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔