اسلام آباد (سب نیوز)جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف)کے رہنما سینیٹر کامران مرتضی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کس بات پر معافی مانگیں، معافی تو ہو مانگیں جنہوں نے لشکر بنانے کا کہا ہے۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے اس سوال پر کہ محمود اچکزئی کے بعد کیا مولانا فضل الرحمان پر بھی ایف آئی آر ہوگی، جواب میں کامران مرتضی نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے ایسی کونسی بات کی جس پر معافی کا مطالبہ کیا جائے؟۔اپنی بات کو جاری رکھتے پوئے ان کا کہنا تھا کہ معافی کا مطالبہ تو اس بات پر کیا جانا چاہیے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ آپ خیبرپختونخوا میں متوازی لشکر بنا لیں اور لوگوں کا خود مقابلہ کریں، معافی تو ان کو مانگی چاہیے نہ کہ مولانا کو۔جے یو آئی سینیٹر نے کہا کہ جو کچھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہو رہا ہے، اس کے اوپر معافی مانگی چاہیے کہ گورننس کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے۔
کامران مرتضی نے کہا کہ مولانا جب پنجاب میں جا کر یہ بات کہتے ہیں کہ میرے صوبے میں اور بلوچستان میں حالات اس حد تک چلے گئے اور خراب ہوگئے ہیں اور ہمیں یہ کہا جا رہا ہے، ہمیں اگر ڈائریکٹ نہیں کہا تو کسی اور کو یہ ڈائریکٹ کہا جا رہا ہے کہ آپ ان کے مقابلے کے لیے لشکر تشکیل دیں، تو کیا یہ کہا جانا مناسب ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات پر مولانا کو معافی مانگی چاہیے یا ان لوگوں کو معافی مانگنی چاہیے جنہوں نے یہ حرکت کی۔
مولانا فضل الرحمان نے ایسی کونسی بات کی جس پر معافی کا مطالبہ کیا جائے؟، رہنما جے یو آئی کامران مرتضیٰ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
