اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں حالیہ تشدد میں اضافہ کمزور جنگ بندی کے خطرات کی واضح یاددہانی ہے، جاری کشیدگی کے نتائج خطے اور دنیا کیلئے ناقابل برداشت ثابت ہو سکتے ہیں ،جاری کشیدگی کے نتائج خطے اور دنیا کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہو سکتے ہیں،پاکستان برادر ممالک،شراکت داروں کیساتھ ملکرتنازع کے پرامن،سفارتی حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے، تنازع کے منصفانہ حل کے حصول کا مقصد قریب ہے، تمام فریقین تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں، فریقین سے اپیل ہے امن کو ایک اور موقع دیا جائے کشیدگی میں اضافہ نہ کیا جائے، تشدد اور تباہی کے بجائے امن اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جائے،امن اور سفارتی کوششوں کی کامیابی کے روشن امکانات موجود ہیں، پاکستان خطے میں امن، استحکام،مذاکرات کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
پیر کو سماجی رابطے کے ویب سائٹس ایکس پر اپنے بیان مشرقِ وسطی میں حالیہ تشدد میں اضافہ انتہائی تشویشناک ہے، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی غیر مستحکم جنگ بندی کے خطرات کو اجاگر کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تشدد کے نتیجے میں سنگین اور ناقابلِ برداشت انسانی نتائج سامنے آ سکتے ہیں، پاکستان اپنے برادر اور شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل کی کوششوں میں مصروف ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تنازع کے پائیدار اور پرامن حل کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، امن معاہدے کے حصول کا مقصد قریب ہے، ایسے وقت میں تحمل اور بردباری ناگزیر ہے۔شہباز شریف نے اپیل کی کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن کو ایک اور موقع دیں، موجودہ حالات میں طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ تشدد اور تباہی کا راستہ خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے، امن اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا موثر اور دیرپا راستہ ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن کے امکانات روشن ہیں، فریقین دانشمندی کا مظاہرہ کریں، پاکستان مشرقِ وسطی میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کا خواہاں ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ سفارت کاری کی کامیابی کے امکانات موجود ہیں، جنگی ماحول سے گریز کیا جائے، خطے کے امن، استحکام اور عوام کے مفاد میں مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک بار پھر مشرقِ وسطی میں امن، تحمل اور مکالمے کی حمایت کا اعادہ کیا، عالمی برادری اور تنازع کے تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ امن کا راستہ اختیار کیا جائے، تشدد اور محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں، مشرقِ وسطی کے بحران کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔

