بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ اور دورہ چین پر آئے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں ملاقات ہوئی ۔ بات چیت 2 گھنٹے 15 منٹ سے زائد جاری رہی۔ بات چیت کے دوران، صدر شی اور صدر ٹرمپ نے چین-امریکہ تعمیری تزویراتی مستحکم تعلقات کو دونوں ممالک کے تعلقات کی نئی بنیاد کے طور پر قائم کرنے پر اتفاق کیا،
جو اگلے تین سالوں اور اس کے بعد کے چین-امریکہ تعلقات کے لیے تزویراتی رہنمائی فراہم کرے گی ۔عالمی برادری چین اور امریکہ کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس ملاقات پر گہری توجہ دے رہی ہے۔ مختلف ممالک کے کئی افراد کا خیال ہے کہ یہ ایک تاریخی ملاقات تھی جس نے دنیا کو ایک مثبت اشارہ دیا ہے ۔ امریکی مشرقی ایشیا کے امور کے ماہر اور فیئرلی ڈکنسن یونیورسٹی کے وزٹنگ پروفیسر جیسی گیٹس نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان “تعمیری اسٹریٹجک استحکام” پر مبنی تعلقات کا قیام آگے بڑھنے کا ناگزیر راستہ ہے،
اور دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے قریب آنا نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ آسٹریلوی سٹیزنز پارٹی کے قومی چیئرمین رابرٹ باروک نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ دور اندیش رہنما ہیں، جنہوں نے تعاون کو بنیاد، مقابلے کو محدود، اختلافات کو قابلِ کنٹرول اور امن کو ممکن قرار دیتے ہوئے چین-امریکہ تعلقات کی نئی سمت واضح کی اور یہی وہ پیغام ہے جسے دنیا سننا چاہتی ہے۔ متعدد ممالک کے افراد کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات دنیا کے اہم ترین دوطرفہ تعلقات میں سے ایک ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی فائدے پر مبنی تعاون عالمی سطح پر حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔
