جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کا لاہور ہائی کورٹ میں تبادلہ کردیا۔ ہائی کورٹ ججز کے تبادلے پر غور کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی نے کی۔اجلاس میں جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ٹرانسفر کرنے کی منظوری دے دی۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ کثرت رائے سے کیا گیا۔ دریں اثنا جوڈیشل کمیشن اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی پانچ ججوں کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلے پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم سومرو کے تبادلے کی سفارش واپس لے لی۔جوڈیشل کمیشن نے جسٹس ثمن رفت امتیاز کی سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دے دی، جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے تبادلے کا فیصلہ اکثریت سے کیا گیا۔جوڈیشل کمیشن نے جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائیکورٹ تبادلے کی منظوری دے دی ،
اجلاس میں شرکت کے لیے ممبر جوڈیشل کمیشن بیرسٹر گوہر علی خان بھی سپریم کورٹ پہنچے، پی ٹی آئی کے دونوں ممبران اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے جبکہ 27ویں ترمیم سے پہلے وہ اجلاسوں کا بائیکاٹ کرتے رہے تھے۔اجلاس میں شرکت سے سپریم کورٹ میں میڈیا سے گفت گو میں سینیٹر علی ظفر نے نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر سے پہلے واضح رولز بننے چاہئیں اور بغیر ٹھوس وجوہات کے ججز کا تبادلہ نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں جو مطالبات اٹھائے ہیں وہ درست ہیں اور ججز ٹرانسفر کے لیے شفاف اور مضبوط بنیادیں ضروری ہیں۔انہوں نے صحافی کے سوال پر کہا کہ پی ٹی آئی اور چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی ایک ہی مقف پر ہیں، علی ظفر نے کہا کہ وہ چیف جسٹس کے موقف کے ساتھ ہیں کہ اس معاملے میں اصولی طریقہ اپنایا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے ٹرانسفر سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے قبل اہم پیش رفت سامنے آئی جب کہ ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس یحیی آفریدی کے نام بطور سربراہ جوڈیشل کمیشن خط لکھ دیا جس میں انہوں نے ٹرانسفر کے معاملے پر انہیں ذاتی طور پر سنے جانے کی استدعا کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں مقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ٹرانسفر کے معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل کمیشن کے اجلاس میں انہیں سنا جائے۔ واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار کا نام بھی آج ٹرانسفر کے لیے زیر غور ججز میں شامل ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چیف جسٹس یحیی آفریدی نے ٹرانسفر ججز کے لیے اجلاس بلانے کی مخالفت کی تھی تاہم چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے 5 ممبران کی ریکوزیشن پر یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
