Wednesday, April 22, 2026
ہومبریکنگ نیوزسیکیورٹی سخت،راستے بند ،متعلقہ افسران ڈیوٹی پر:کیا پاک ایران مذاکرات جلد ہونے کا امکان ہے ؟

سیکیورٹی سخت،راستے بند ،متعلقہ افسران ڈیوٹی پر:کیا پاک ایران مذاکرات جلد ہونے کا امکان ہے ؟

اسلام آباد (سب نیوز )پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ اسلام اباد مذاکرات کا مستقبل کیا ہوگا اس حوالے سے پاکستانی قیادت مسلسل در پردہ سفارتکاری میں مصروف ہے،اس حوالے سے نہ تو ایران نے مستقبل کا لائحہ عمل واضح کیا ہے اور نہ ہی امریکی قیادت کی اسلام آباد آمد کے حوالے سے کوئی پیش رفت ہو سکی ہے ،ان حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا مستقبل کیاہے یا جلد ایران امریکہ مذاکرات کا امکان ہے یا نہیں ؟

Designer 2026 04 21T172120.462

گزشتہ رات طویل انتظار کے بعد امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے لیے اِسلام آباد تو نہ آئے لیکن رات گئے ایک خبر جاری کی گئی جس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کی مدت میں غیر معینہ توسیع کر دی ہے۔اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایراوانی نے آج اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اٹھا لے تو اِسلام آباد میں مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یہ بیان اِس حقیقت کا عکاس ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شمولیت کی واحد رکاوٹ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی ہے۔ اور ایران اس کے خاتمے کے بعد اِسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آ سکتا ہے۔

ان حالات میں جب فریقین کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہیں پائی جا رہی اور مسلسل تندو تیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے اسلام آباد میں حالات بدستور جوں کے توں ہیں،سڑکیں بند ہیں،پولیس اور سیکیورٹی اہکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہے ،کنونشن سینٹر میں وزات اطلاعات کے افسران بدستور ڈیوٹیز پر موجود ہیں اور پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے باہر صحافیوں کیلئے شٹل سروس کی گاڑیاں لائن میں لگی ہوئی ہیں۔وفاقی حکومت کی تیاریوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جلد مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

یو این میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو ڈیل قبول نہ کرنے کے عوض سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جو امریکی صدر کی جانب سے دباو کی سفارت کاری نظر آتی ہے لیکن ایرانی قیادت کے لیے ایسی دھمکیاں قبول کرنا اندرونِ ملک اپنی سیاسی پوزیشن خراب کرنے کے مترادف ہے۔ ماہرین کے مطابق مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا دارومدار امریکا کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات پر ہے مثال کے طور پر اگر وہ بحری ناکہ بندی ختم کر کے ایرانی جہازوں کو چھوڑ دیتا ہے تو یہ مذاکرات کی جانب پیش قدمی ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف پاکستان اس صورتِ حال میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آج وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سفیر رضا امیر مقدم سے ملاقات کی جبکہ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے برطانوی سفارتکار جین میریٹ سے ملاقات کی۔ گزشتہ روز اسحاق ڈار نے سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک گفتگو کی جبکہ چین کے سفیر اور امریکی ناظم الامور کے ساتھ ملاقات میں بھی علاقائی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اس صورت میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا اِمکان کتنا ہے؟ یہ وقت ہی بتائے گا ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔