کراچی(آئی پی ایس )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات میں عالمی برادری کے پاس متبادل حکمتِ عملی یعنی پلان بی کا کوئی آپشن موجود نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ پلان اے یعنی امن کی کوششوں کو ہر حال میں کامیاب بنایا جائے۔برطانوی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ اس تنازع کے اثرات پوری دنیا کے لیے نہایت سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ایک ماہ کی سفارتی کاوشوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کی منظوری دے دی ہے، جبکہ ایران کے 10 نکاتی فارمولے کو مذاکرات کی بنیاد بنایا گیا ہے، تاہم بعض نکات پر ابھی بھی اختلافات برقرار ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ایران میں فضائی حملے اور خطے میں جوابی کارروائیاں فی الحال رک گئی ہیں، اور پاکستان کو امید ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کی جا سکے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حالیہ کشیدگی کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور عالمی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔نوبیل امن انعام سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان کی توجہ کسی انعام پر نہیں بلکہ خطے میں دیرپا امن کے قیام پر مرکوز ہے۔انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ عالمی برادری کو امن کے واحد راستے پر ہی چلنا ہوگا، کیونکہ پلان بی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
