جنیوا(خصوصی رپورٹ)سوڈان کی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں جاری جنگ بیرونی طاقتوں کی جانب سے مسلط کی گئی ہے، جن کا مقصد سوڈان کو اس کے وسائل پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے کمزور اور تباہ کرنا ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں اور علاقائی امن و سلامتی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو فوری اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)کی باغی ملیشیا کی جانب سے معصوم شہریوں کے خلاف جاری خلاف ورزیوں اور جرائم کو روکا جا سکے۔
حکومت نے زور دیا کہ عالمی برادری کو الفاشر کی طرح انتظار کرنے کے بجائے بروقت کارروائی کرنی چاہیے۔سوڈانی حکام نے مطالبہ کیا کہ آر ایس ایف باغی ملیشیا کو فراہم کی جانے والی ہر قسم کی مدد فوری طور پر بند کی جائے، جس میں کرائے کے جنگجوں، اسلحہ، مالی اور میڈیا معاونت شامل ہے، اور جس کا بڑا حصہ متحدہ عرب امارات سے آنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ سوڈان کسی ایسے امن منصوبے کو قبول نہیں کرے گا جو سوڈانی فوج کو آر ایس ایف باغی ملیشیا کے برابر قرار دے یا ملیشیا کو اس کے مبینہ جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود برقرار رہنے کی اجازت دے۔ حکومت کے مطابق سوڈانی عوام اس قسم کے کسی بھی سمجھوتے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔مزید کہا گیا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی باغی ملیشیا کو اس کے مبینہ جرائم کی بنیاد پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ اقدامات اسے دہشت گرد تنظیم کے زمرے میں لانے کے لیے کافی ہیں۔
سوڈان نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے گزشتہ دسمبر 2025 میں جمہوریہ سوڈان کے وزیر اعظم ڈاکٹر کامل ادریس کی جانب سے پیش کردہ امن اقدام کی حمایت کرے۔وزیراعظم کے مطابق یہ اقدام ایک حقیقت پسندانہ، قابلِ عمل اور جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کا مقصد شہریوں کا تحفظ، مظالم کا خاتمہ، ریاستی عملداری کی بحالی اور قومی مفاہمت کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بیرونی طور پر مسلط نہیں کیا گیا بلکہ سوڈان کا اپنا تیار کردہ اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ جیتنے کا نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری تشدد کے اس سلسلے کو ختم کرنے کا معاملہ ہے جس نے سوڈان کو نقصان پہنچایا ہے۔وزیراعظم نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ سوڈانی عوام کے لیے امن، انصاف اور وقار کے قیام میں شراکت دار بنے۔
