Monday, January 26, 2026
ہومتازہ تریننوجوان جمہوری اور عوامی فیصلوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مقررین کا بارانی یونیورسٹی میں ہونے والے مکالمے میں اظہارِ خیال

نوجوان جمہوری اور عوامی فیصلوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مقررین کا بارانی یونیورسٹی میں ہونے والے مکالمے میں اظہارِ خیال


راولپنڈی (آئی پی ایس): پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نوجوانوں کے کردار اور جامع حکمرانی کے موضوع پر ایک عوامی مکالمہ منعقد ہوا، جس میں طلبہ، اساتذہ، سرکاری اداروں کے افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مکالمے میں نوجوانوں کو ملکی امور اور عوامی فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی۔


مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوزسی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی نے کہا کہ نوجوان کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں نوجوانوں نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان مایوسی کا شکار ہو جائیں تو ملک کو برین ڈرین اور لاتعلقی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جمہوری اصلاحات، احتساب اور آئینی اقدار پر عمل درآمد کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔
پینل مباحثے کی نظامت عورت فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر ممتاز مغل نے کی، جبکہ مختلف وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے سینئر افسران نے اظہارِ خیال کیا۔


پنجاب کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے ڈویژنل کوآرڈینیٹر قیصر محمود نے کہا کہ پنجاب میں خواتین کو بااختیار بنانے اور جینڈر حساس حکمرانی کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں خواتین پولیس افسران، ہیلپ لائنز، جینڈر سیلز اور تیزاب کی فروخت پر سخت قوانین شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر حکمرانی کے لیے ریاست اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔


نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی ڈائریکٹر بشریٰ حسان چوہدری نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے اور ہنگامی حالات میں نوجوان رضاکار سب سے پہلے مدد کے لیے آگے آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی آفت کی صورت میں متاثرہ کمیونٹی ہی سب سے پہلا مدد کا ذریعہ ٹھہرتی ہے اور ایسے میں متاثرہ کمیونٹی کا نوجوان طبقہ ہی اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔


میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی شریک بانی صدف خان نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے خواتین اور محروم طبقات کے لیے ڈیجیٹل سہولیات کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات اور نفرت انگیزی سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل آگاہی بے حد ضروری ہے۔


اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری انتظامیہ کی ایڈیشنل کمشنر رابیہ اورنگزیب نے کہا کہ ضلعی اور شہری سطح پر نوجوانوں کی شمولیت سے عوامی مسائل کے بہتر حل ممکن ہیں، جبکہ نادرا کی ڈائریکٹر انکلوژن علیہ رزاق نے بتایا کہ محروم طبقات کو قومی شناخت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے نادرا مختلف اقدامات کر رہا ہے اور اس عمل میں نوجوانوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں سوال و جواب کے سیشن میں طلبہ نے ہنگامی حالات میں نوجوانوں کے کردار، خواتین کے لیے اسکالرشپس، ڈیجیٹل سہولیات اور معاشرتی عدم برداشت جیسے مسائل پر سوالات کیے۔


مکالمے کا اہتمام اکاؤنٹیبلٹی لیب نے انٹیگریٹی انوویشن لیب کے تحت کیا۔ اختتامی خطاب میں یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل ڈاکٹر جاوید اسد نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں نوجوانوں کو باخبر اور ذمہ دار شہری بننا ہوگا تاکہ ملک میں جمہوری اور جامع نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔


اکاؤنٹیبلٹی لیب پاکستان ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو ملک بھر میں باخبر، فعال شہریوں اور ذمہ دار قیادت کی نئی نسل تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ نوجوانوں میں احتساب، شفافیت اور مثبت سماجی کردار کے فروغ کے لیے تخلیقی مہمات چلاتا ہے اور نوجوان سول سوسائٹی کارکنوں کے لیے ایک مسابقتی احتساب انکیوبیٹر پروگرام بھی چلاتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔