Tuesday, January 27, 2026
ہومبریکنگ نیوزوفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد میں پرائیویٹ گھر کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد میں پرائیویٹ گھر کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت دے دی


اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں پرائیویٹ گھر کے ساتھ ملحقہ سرکاری اراضی کے راستے کے استعمال کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل نمٹا دی۔

عدالت نے سی ڈی اے کو درخواست گزار کو اراضی استعمال کرنے کی مشروط اجازت دینے کی منظوری دی۔
سی ڈی اے کے وکیل کے مطابق، درخواست گزار نے اراضی کے استعمال اور بوقت ضرورت اسے واپس کرنے کے لیے بیان حلفی دے رکھا ہے۔ عدالت کے جج، جسٹس عامر فاروق نے وکیل سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ کیا مسئلہ کے آپسی حل کا کوئی امکان ہے۔


سی ڈی اے کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق کسی کو ملحقہ سرکاری اراضی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جبکہ وکیل فیصل چوہدری نے دلائل دیے کہ سی ڈی اے پورے شہر میں کچی آبادیوں کو گرا رہا ہے اور اگر پوش ایریاز میں اجازت دی جاتی ہے تو یہ غلط تاثر جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غریبوں کے گھر گرا کر امیروں کو بیان حلفی پر اجازت دی جا رہی ہے۔


جسٹس عامر فاروق نے وکیل فیصل چوہدری کو ہدایت کی کہ وہ کچھ آبادیوں کے خلاف سی ڈی اے آپریشنز پر بات نہ کریں اور صرف اپنے کیس کی بات کریں۔


سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے پرائیویٹ گھر کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کو درست قرار دیا تھا، جس کے خلاف سی ڈی اے نے آئینی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔