تحریر: اویس انقلابی
گزشتہ روز کراچی تجارتی حَب اور مصروف ترین کاروباری مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی آگ تیزی کے ساتھ گراؤنڈ فلور سے تیسرے فلور اور پھر چوتھے فلور تک پہنچ گئی ریسکیو حکام کے مطابق پلازہ میں موجود کارپیٹ ،،فوم،،پرفیوم،،اور پلاسٹک کا سامان آگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ بنا
جس سے نہ صرف لوگوں کے اربوں روپے کے کاروبار دیکھتے ہی دیکھتے راکھ کا ڈھیر بن گئے بلکہ یہ بدقسمت سانحہ 30 سے زائد قیمتی انسانی جانیں نگل گیا
اور 70 کے قریب لوگ اب بھی لاپتہ ہیں
لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کے منتظر ہیں اور دعا کر رہے ہیں کہ کوئی معجزہ ہو اور انکے کان اپنے پیاروں کی عافیت کی خبر سنیں،،مرنے والوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی لاشوں کی شناخت میں مصروف ہیں اور بچ جانے والے تاجر راکھ کے ڈھیر پر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کے ضیاع ہونے پر نوحہ کناں ہیں
قارئین محترم
یہ کوئی پہلا حادثہ یا سانحہ نہیں
ریاست پاکستان میں ایسے سانحات معمول کا حصہ ہیں اور ایسے سانحات میں انسانی جانوں کا ضیاع معمول کی بات ہے
قربان جاؤں نظام کی شفافیت اور مضبوطی پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہتی ہے کہ پلازہ مالک قصور وار ہے اس نے نقشہ سے 179 دکانیں فالتو بنائیں اور ایک منزل ایکسٹرا بنا لی 1998 میں تعمیر ہونے والے گُل پلازہ کی تمام خامیاں 28 سال بعد پلازہ منہدم ہونے اور گرنے پر نظر آئیں
28 سال سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہاں سوئی رہی کیا اتھارٹیز اور ادارے نقصان ،،حادثہ اور سانحہ ہو جانے کے بعد صرف وضاحتیں پیش کرنے کے لیے ہوتے ہیں،؟
ریاست ماں ہوتی ہے اور ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے جان،،مال،،عزت و آبرو کی حفاظت کرے
آئین پاکستان کی بنیادی شقوں میں یہ واضح درج ہے کہ ریاست برابری کی سطح پر اپنے تمام شہریوں کی جان ،،مال عزت و آبرو کی حفاظت ہر صورت میں یقینی بنائے گی
کہاں تھے وہ ادارے جو شہریوں کی خون پسینے کی کمائی سے تنخواہیں وصول کرتے ہیں
کہاں تھیں وہ گاڑیاں جو اس قوم کے پیسے سے خریدی گئیں تھیں
کیا وہ صرف اشرافیہ کی موومنٹ پر سائرن بجانے اور مافیاز کے آگے پیچھے گھومنے کے لیے تھیں کیا کسی اشرافیہ کے گھر میں آگ لگتی تو اداروں کا اتنا ہی سست ردعمل ہوتا ؟مگر یہ سب سوالات کون اور کیوں کرے؟
بدقسمتی سے اشرفیہ راج نے ہمیں قوم کے بجائے ایک ہجوم بنا کر آگے دھکیل لیا ہم سب نے اپنے اپنے ہاکر کے آگے ریوڑ کی شکل اختیار کر لی
ہم نے خود کو قوم بننے ہی نہ دیا اپنے اور اپنے ملک کے نفع ونقصان سے آشنائی ہی نہ کی بلکہ بھٹوں،،شریفوں،،زرداریوں،،اور عمرانیوں کی غلامی کے وہ داغ دار طوق گلے میں سجا لیے جن پر صرف اور صرف ہماری،،بدنامی،، بربادی،،تقسیم در تقسیم،، معاشی،،اقتصادی،،اور اخلاقی گرواہٹ کے نقش واضح ہیں قومیں تو ایک جسم کی مانند ہوتی ہیں ایک کا درد سب کا درد ہوتا ہے ہم قوم ہوتے تو کل کے سانحہ کا درد خضدار سے خنجراب اور کراچی سے خیبر تک ہر شخص کو تڑپا دیتا
ہم قوم ہوتے تو عوامی ٹیکس پر راج کرتی مافیا آج گھٹنوں کے بل عوامی دہلیز پر ہوتی یا تو استعفے دے کر سب گھر ہوتے یا اپنی غفلت پر قوم سے معافی مانگ کر آئیندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے کوئی واضح پلان تیار ہو رہا ہوتا،،ہم ایک قوم ہوتے تو کیا مجال کہ اتنا بڑا سانحہ ہونے کے باوجود حکمران رات کو سکون کی نیند سو سکتے
صدر،،وزیر اعظم ،،وزیر اعلی اور تمام اشرافیہ کا رسمی اظہار تعزیت کیا لواحقین کو انکے پیارے واپس دلوا دے گا
کیا دنیا کے کسی اور ملک میں ایسے سانحات پر صرف دعائیں اور بدعائیں ہی دی جاتی ہیں
قومیں وہ ہوتی ہیں جہاں اتنے بڑے سانحات پر پُرامن طریقے سے سسٹم جام کر دئیے جاتے ہیں اور نظام اس وقت تک مفلوج کر دئیے جاتے ہیں جب تک عوامی مفادات اولین ترجیح نہ بن جائیں
مستقبل میں ایسے سانحات کی مکمل روک تھام کے لیے واضح اور جامع پلان مرتب کرنے تک حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی جاتی ہیں
دُکھ گلے سڑے اور بوسیدہ نظام پر نہیں دُکھ بحیثیت قوم اپنی بےحسی پر ہے دُکھ گنجان آباد شہر کی کسی چھوٹی سی گلی میں آباد اس ماں کی بےبسی پر ہے جس کا واحد سہارا ایک بیٹا تھا مگر وہ ریاست کی غفلت اور بےحسی کی نظر ہو گیا اور قوم اسکے لیے دعا سے زیادہ کچھ نہ کر سکی
جب قوموں کو تقسیم کر دیا جائے
چھوٹے چھوٹے ٹولوں میں بٹ دیا جائے تب راج مافیا ہی کا ہوتا ہے پھر افسوس بستی جلنے کا نہیں بلکہ اس تیل کے ضیاع کا کیا جاتا ہے جسے چھڑک کر بستی جلائی گئی ہو میرے عزیز پاکستانیو دو ہی راستے ہیں یا تو ہر قیمت پر انفرادی مفادات سے نکل کر اجتماعی مفادات کا تحفظ کرنا ہو گا اور ریاست،،حکمرانوں،،اور اداروں سے انکے ناروا سلوک پر کھل کر سوال کرنا ہو گا
یا ہمیشہ کی طرح اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر اسی طرح ٹولیوں میں بٹ کر اجتماعیت پس پشت ڈال کر دعاؤں اور بدعائوں کے سہارے جینا ہو گا
لیکن یاد رکھیں قدرت انھیں پر رحم کرتی ہے اور ترس کھاتی ہے جو خود پر رحم کرتے ہیں اور ترس کھاتے ہیں جو مافیا اور اشرافیہ کی خوشآمد کے لیے خود کو بچھا دیتے ہیں اور اجتماعی مفادات بھولا دیتے ہیں قدرت بھی ان سے نظر کرم پھیر لیتی ہے۔۔۔۔۔
