کراچی:(آئی پی ایس) ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کو لگنے والی آگ کے سبب دم گھٹنے اور جھلسنے اب تک 29 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 80 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کا کہنا ہے کہ جب تک ایک بھی لاپتا فرد موجود ہوا اس وقت تک ملبہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق ملبے سے مزید ایک لاش ملی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 29 تک پہنچ گئی جبکہ سرچ آپریشن کے دوران کچھ انسانی باقیات ملیں، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
مزید ایک لاپتا شہری کے اہل خانہ نے مسنگ پرسنز ڈیسک سے رابطہ کر لیا، 65 سالہ جہانگیر شاہ کے اہل خانہ نے مسنگ پرسنز ڈیسک پر اندراج کروا دیا جس کے بعد لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی۔
گزشتہ روز، 21 ناقابل شناخت میتوں میں سے مزید تین کی شناخت کی گئی تھی، جن میں ایک میت لڑکی 15 سالہ مریم جبکہ دو مردوں 33 سالہ شہروز اور 26 سالہ رضوان کی تھیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق سی پی ایل سی نے ڈی این اے کے ذریعے شناخت کی جس کے بعد لواحقین میتیں لینے سرد خانے پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل دن میں 7 افراد کی لاشوں کو شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا تھا جس کے بعد سرد خانے میں 21 ناقابل شناخت لاشیں موجود تھیں اور ان میں سے مزید تین کی شناخت ہوگئی۔
واضح رہے کہ ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور لاپتا افراد کی تلاش میں آپریشن شروع کیا تاہم کام کے دوران بھی عمارت کے مختلف حصوں سے آگ بھڑک اٹھتی تھی جس سے ریسکیو کا کام متاثر ہوا۔
ڈی سی ساؤتھ کی گفتگو
گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ پلازہ کا سالم حصہ بھی سرچ کیا جا رہا ہے لیکن فی الحال عمارت کے گرے ہوئے حصے کی طرف توجہ ہے، عمارت کے درمیان میں جانے کا راستہ بنایا جا رہا ہے، جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرا کر ملبہ اٹھا لیا جائے گا۔

