اسلام آباد (آئی پی ایس) قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت ہوا، جس میں سیکریٹری مواصلات اور این ایچ اے کے سی ای او نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں کیرج 3 منصوبے میں بلیک لسٹ غیر ملکی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے احکامات پر ہونے والی انکوائری مکمل ہو چکی ہے اور این ایچ اے کو ایف بی آر کی جانب سے خط و کتابت موصول ہو چکی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر دس دن کے اندر ذمہ داران کا پتہ لگانے کے بعد سزا و جزا کا تعین کر کے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کریں گے۔
چیئرمین این ایچ اے نے کہا کہ محکمہ سے جو بھی اس میں ملوث ہے، وہ سزا سے نہیں بچے گا اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ٹھیکے میں سنجیدہ نوعیت کی بدعنوانی ہوئی۔
ذیلی کمیٹی نے این ایچ اے کو ہدایت دی کہ اے ڈی بی کے ساتھ نئی شرائط طے کی جائیں اور منصوبہ مختلف پیکجز میں مکمل کیا جائے تاکہ اخراجات میں اضافہ نہ ہو۔
اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جن افسران نے بدعنوانی کی انہیں عبرت کا نشان بنایا جانا چاہیے۔ بعض کمپنیاں افسران کو تبادلوں کی دھمکی بھی دیتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ایک کمپنی اتنی طاقتور تھی کہ تمام افسران اس کے سامنے سجدہ کرتے تھے اور بدعنوان افسران ایک ناسور ہیں۔
سینیٹر کامل علی آغا نے اجلاس میں انکشاف کیا کہ کسی نے انہیں بتایا کہ یہ سارا معاملہ منصوبے کی قیمت میں اضافے کے لیے کیا گیا اور کچھ انجانے افراد چاہتے ہیں کہ معاملے میں مزید تاخیر ہو۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ٹھیکیدار ہمارے سینیٹ کے ارکان ہیں۔
