اسلام آباد (آئی پی ایس )آ سابق نائب صدر ایف پی سی آئی زاھد اقبال چوھدری نے قومی معیشت کی تنزلی سے متعلق سرپرست اعلی یونائیٹڈ بزنس گروپ ایس ایم تنویر کے موقف کو حقائق کی عکاسی قرار دیا ہے۔میڈیا کو جاری بیان میں زاہد اقبال چوھدری نے کہا کہ ایس ایم تنویر نے حالیہ پریس کانفرنس میں ملک کی معاشی صورتحال کو مکمل حقائق کی روشنی میں بیان کیا۔ ان کی پریس کانفرنس نے فارم سنتالیس کی جعلی حکومت کے معاشی ترقی کے بلند بانگ دعوں کی قلعی کھول دی۔
پورے ملک کی تاجر برادری ایس ایم تنویر کے جرات مندانہ اور حقائق پر مبنی موقف کی مکمل حمایت کرتی ھے اور انکے شانہ بشانہ کھڑی ھے ۔زاہد اقبال چوھدری نے کہا کہ چوکوں چوراہوں میں رنگ برنگی روشنیاں لگا دینا ترقی نہیں ہوتی۔ حقیقی ترقی صنعتوں کی بقا، برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور صنعت کاروں کو سستی بجلی و دیگر سہولیات کی فراہمی سے ممکن ہے۔ ایس ایم تنویر نے صورتحال سے متعلق حقائق بیان کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم تنویر نے ٹیکسٹائل سیکٹر میں 145 سے زائد یونٹس کے بند ہونے، مہنگی توانائی، بلند شرح سود، اور غیر مسابقتی ٹیکس نظام کی وجہ سے صنعتوں کی تباہی کا جو معاملہ اٹھایا ہے، وہ پورے ملک کے صنعت کاروں کی آواز ہے۔
یہ حالات جاری رہے تو معیشت مزید کمزور ہوگی اور دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ سکتا ہے۔زاہد اقبال چوھدری نے زور دیا حکومت کے معاشی دعوں کے برعکس صنعت کار شدید بحران کا شکار ہیں۔ رئیل اسٹیٹ اور دیگر شعبوں میں مندی کی وجہ سے 40 سے زائد متعلقہ صنعتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ایس ایم تنویر صاحب کی پریس کانفرنس یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر فوری طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی، شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک لانا، ٹیکس میں نرمی اور برآمدات کے لیے حقیقی ریلیف پیکج نہ دیا گیا تو معاشی استحکام کا خواب ادھورا رہے گا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صنعت کو وینٹی لیٹر سے نکال کر حقیقی ترقی کی راہ پر لگایا جائے۔ ایس ایم تنویر کی تجاویز پر فوری عمل درآمد کرکے صنعت کاروں کا اعتماد بحال کیا جائے۔
