Thursday, March 5, 2026
ہومپاکستانسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میں پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کے تنخواہوں اور ایڈجسٹمنٹ کا جائزہ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میں پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کے تنخواہوں اور ایڈجسٹمنٹ کا جائزہ

اسلام آباد (سب نیوز) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس بدھ کے روز پارلیمنٹ لاجز، اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی صدارت سینیٹر ناصر محمود نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر جان محمد، سینیٹر خالدہ عطیب اور سینیٹر ہدایت اللہ خان نے شرکت کی۔

کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں (کوئٹہ 21 نومبر 2025 اور لاہور 18 دسمبر 2025) میں جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد رپورٹ پیش کی گئی۔

اجلاس کے دوران پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے مینٹیننس اسٹاف کے ملازمین کو یکم جولائی 2025 سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان ملازمین کو فوری طور پر بقایاجات کی ادائیگی اور انہیں اسی تاریخ سے ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت کی، جس تاریخ سے بلوچستان میں دیگر پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مختلف اداروں میں ایڈجسٹ کیے گئے ملازمین کو بلا تعطل تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں، جن میں 1,493 ملازمین سی ڈی اے، 970 اسٹیٹ آفس، 95 وزارت دفاع، ایک وفاقی شرعی عدالت، 60 وزارت خارجہ، 116 ایف بی آر، 35 نیب اور 90 کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 2,860 ملازمین کو تنخواہیں باقاعدگی سے مل رہی ہیں، جبکہ 173 ملازمین کے لیے موجودہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری زیر غور ہے اور 83 آئی بی ملازمین کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام مذکورہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی تصدیق کر کے واضح اور مستند رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔

اجلاس میں سینٹرل سول ڈویژن پاک پی ڈبلیو ڈی کے 15 درجے چہارم کے ملازمین کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جنہیں اے جی پی آر اور ٹی آفس لاہور منتقل تو کیا گیا مگر گزشتہ چھ ماہ سے نہ تو ایڈجسٹ کیا گیا اور نہ ہی تنخواہیں ادا کی گئیں۔ کمیٹی نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری حل اور تنخواہوں کی ادائیگی کی ہدایت کر دی ۔
وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے نے کمیٹی کو پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ، تنخواہوں، پنشن، گریجویٹی اور دیگر واجبات کی ادائیگی کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں کانسٹینشیا اسٹیٹ مری کے حصول، ترقی اور استعمال سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) مری نے زمین کی میوٹیشن کے لیے ڈپٹی کمشنر کو باضابطہ درخواست دینے کی ہدایت کی ہے۔ چونکہ اسٹیٹ آفس کو زمین کی صرف نگرانی (واچ اینڈ وارڈ) کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس لیے معاملہ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ میوٹیشن وفاقی حکومت یا وزارت کے نام کی جائے۔
مزید برآں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے سول کورٹ راولپنڈی کو خط لکھ کر زیر التواء مقدمات کو پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس کے تحت ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کو منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے بروقت فیصلوں، شفافیت اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو جلد از جلد پیش رفت رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔