اسلام آباد:(آئی پی ایس) سینیٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے جس کے بعد احتساب قوانین میں مزید وضاحت اور طریقہ کار کو بہتر بنانے کیلئے متعدد ترامیم شامل کر دی گئی ہیں۔
بل کے متن کے مطابق چیئرمین نیب کی مدتِ ملازمت تین سال سے بڑھانے کی تجویز بھی شامل ہے، جبکہ وفاقی حکومت کو چیئرمین نیب کی مدت میں مزید تین سال تک توسیع دینے کا اختیار بھی حاصل ہو جائے گا۔
ترمیمی بل میں احتساب عدالتوں کے دائرہ اختیار میں اپیلوں کو شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ نیب مقدمات میں مالی حد کو ہر سال مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس مقصد کے لیے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے انفلیشن انڈیکس کو بنیاد بنایا جائے گا۔
بل کے مطابق احتساب عدالت اور ہائی کورٹ کو ملزم کی ضمانت سے متعلق واضح اختیار دیا جائے گا اور فوجداری ضابطہ کی متعلقہ دفعات کے تحت ضمانت یا رہائی دی جا سکے گی۔
مزید برآں نیب کیسز میں ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دوسری اپیل کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ بل کے مطابق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر کی جا سکے گی اور اس کے لیے تیس دن کی مدت مقرر کی جائے گی۔
