کراچی، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران احتجاج کا اعلان کیا ہے جبکہ حکومت کیخلاف فیصلہ کن احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)نے اتوار کو کراچی میں حکومت کیخلاف جلسہ کرنا ہے، جس کے لیے پی ڈی ایم کی قیادت نے شہر قائد میں ڈیرے ڈال لئے ہیں ۔اسی حوالے سے پی ڈی ایم کا اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا، اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، ساجد میر، اویس نورانی، آفتاب شیر پاو، محمد زبیر اور دیگر بھی اجلاس میں شریک تھے ۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف، قائد ن لیگ اور سینیٹر اسحق ڈار نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ملکی سیاسی صورت حال اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔اجلاس میں بی این پی اور نیشنل پارٹی کی جانب سے تجویز دی گئی کہ اپوزیشن اتحاد کو اب جلسے جلوسوں اور اجلاسوں سے آگے بڑھنا ہوگا، دونوں جماعتوں نے تجویز دی کہ پہلے مرحلے میں بلوچستان اسمبلی سے اپوزیشن استعفے دے دے، اجلاس کے دوران نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)حکومت کی تین سالہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرے گی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے بڑھتی مہنگائی پر حیرت کا اظہار کیا ہے، پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نیاجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں بدامنی کے حوالے سے تحفظات کااظہارکیاگیا۔انہوں نے کہا کہ ہم غریب قوم کی آواز بنیں گے، پی ڈی ایم اجلاس میں بیروزگاری کو ظلم قرار دیا گیا۔ حکومتی تین سالہ کارکردگی پر صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ اپنا بنیادی منشور سمجھتے ہوئے سندھ کے حقوق پر بھی نظر ہے۔ پی ڈی ایم میں سندھ کے مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، پیپلز پارٹی کے مسئلے کو دوبارہ بحث میں نہ لائیں۔فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دھاندلی کی پیداوار حکومت کو انتخابی اصلاحات کی اجازت نہیں دیں گے۔ اصلاحات کے نام پر غیر قانونی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔ پوری دنیا نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مستردکیا۔امیر جمعیت علمائے اسلام ف کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نیبھی ای وی ایم کومستردکردیا۔ آرٹی ایس کی طرح مشینیں الیکشن چوری کاطریقہ ہیں۔ پی ڈی ایم نے ملک بھرمیں جلسے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ملک بھرمیں روڈ کارواں چلائیں گے۔ کراچی میں فیکٹری میں المناک واقعہ ہوا، کراچی اور زیارت دھماکے پر اظہار افسوس کیا گیا، ملک میں غیراعلانیہ مارشل لاہے۔شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پی ڈی ایم اجلاس کے بعد کارواں آگے بڑھے گا،شیخ رشید کی بات کا جواب نہیں دوں گا۔صحافی کی طرف سے پوچھا گیا کہ مریم نواز کل آئیں گی یا نہیں؟ سوال پر شہباز شریف جواب دیئے بغیر چل پڑے۔اس سے قبل کراچی میں موجود پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے صحافی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یقینی طور پر شہر قائد میں ہونے والا جلسہ کامیاب ہو گیا۔اسی دوران ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ پیپلز پارٹی سے رابطہ کریں گے؟ جس پر جواب دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ جیسا آپ کہیں گے ویسا کرینگے۔علاوہ ازیں پی ڈی ایم کا اجلاس شروع ہونے سے قبل جے یو آئی(ف)کے رہنما راشد سومرو نے (ن)لیگی رہنمائوں عطا اللہ تارڑ ، مریم اورنگزیب اور محمد زبیر روک دیا، ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پہلے ہی(ن)لیگی بڑی تعداد میں موجود ہیں ، ایسی صورت میں انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تاہم شہباز شریف کی مداخلت پر انہیں اجلاس میں شرکت کی اجازت مل گئی ۔اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن)کے کارکنوں نے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، اس دوران دھکم پیل ہوئی جس کے باعث دروازہ ٹوٹ گیا، بعد ازاں(ن)لیگی کارکنوں کو ہوٹل سے باہر نکال دیا۔دوسری طرف پی ڈی ایم نے 29اگست کو کراچی میں ہونے والے اپنے جلسہ عام میں خواتین کارکنان کو شرکت سے روک دیاہے۔جے یو آئی کے راشد محمود سومرو نے کہا کہ ہم خواتین کی سیاست میں شرکت کے مخالف نہیں لیکن کرونا کی صورتحال کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم بعد ازاں اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے تحفظات کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ۔ میڈیا بریفنگ میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ خواتین کی عزت و احترام کرتے ہیں، وہ جلسے میں شریک ہوں گی ۔
پی ڈی ایم کا حکومت کیخلاف فیصلہ کن تحریک چلانے کا فیصلہ،پیپلز پارٹی نے پیٹھ میں چھرا گھونپا ،مولانا فضل الرحمان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
