Sunday, April 19, 2026
ہوماسلام آبادوفاقی دارالحکومت میں سیکڑوں سرکاری رہائش گاہوں پرغیرقانونی قبضے کا انکشاف،رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش

وفاقی دارالحکومت میں سیکڑوں سرکاری رہائش گاہوں پرغیرقانونی قبضے کا انکشاف،رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش

اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی دارالحکومت میں سیکڑوں سرکاری رہائش گاہوں پر غیرقانونی قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔
شہر اقتدار میں فیڈرل لاجز،سرکاری ہاسٹلز اور کمپلیکسزپرغیرقانونی قابض افسران کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 509افسران سے سرکاری رہائش گاہیں واگزارکروا لی گئیں۔150سے زائد نادہندہ سرکاری افسران کو کرائے کی وصولی کیلئے نوٹس جاری کردئیے گئے،نادہندگان میں ایوان صدر،وزیراعظم آفس،سپریم کورٹ سمیت بڑے اداروں کے اعلی افسران شامل ہیں،وزارت ہاوسنگ کی جانب سے تفصیلی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دی گئی ۔
وفاقی وزیرِہاوسنگ وتعمیرات ریاض حسین پیرزادہ کے مطابق اسٹیٹ آفس اور انٹیلیجنس بیورو کے اشتراک سے غیرقانونی قبضوں کیخلاف مشترکہ سروے کیا گیا،اب تک 509غیرقانونی الاٹمنٹس نشاندہی کرکے منسوخ کی گئیں،اوررہائش گاہیں ناجائزقابضین سے خالی کروائی جاچکیں،مستقبل میں فیڈرل لاجز اور سرکاری ہاسٹلز کو غیرقانونی قابضین سے محفوظ بنانے کی منصوبہ بندی بھی کر لی گئی۔
سرکاری لاجز اور ہاسٹلز میں رہائش پذیر 150افسران کرائے کی مد میں 52لاکھ سے زائد رقم دبائے بیٹھے ہیں، اس میں سے گلشن جناح کمپلیکس کے 14 لاکھ،فیملی سوٹس کے 25 لاکھ 85 ہزار روپے شامل ہیں،فیڈرل لاج ون ٹو اور نیوبلاک کے رہائش کنندگان 8لاکھ 68 ہزار اور فاطمہ جناح ہاسٹل کے ساڑھے 3لاکھ روپے کے نادہندہ ہیں ۔وفاقی وزیر نے واضح کیا ہے کہ جو افسر کرایہ ادا نہیں کریگا ،اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔