اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ کی تاریخ میں ایک بار پھر تبدیلی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 10 جون کے بجائے 12 یا 13 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ تبدیلی ممکنہ طور پر عیدالاضحی کی تعطیلات اور قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے باعث کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق 7 اور 8 جون کو عید کی عام تعطیلات ہوں گی جبکہ عید کے تیسرے دن حکومت کو ورکنگ ڈے کا اعلان کرنا پڑے گا، کیونکہ اسی روز قومی اقتصادی کونسل اجلاس اور اکنامک سروے کا اجرا متوقع ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہی روز میں قومی اقتصادی کونسل اجلاس کا انعقاد اور اکنامک سروے کا اجرا ممکن نہیں ہوگا۔نیز، روایتی طور پر قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس اور بجٹ کے درمیان دو دن کا وقفہ رکھا جاتا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے بعد بجٹ میں شامل کیا جا سکے۔
قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم شرکت کریں گے، اور سالانہ ترقیاتی پروگرام پر مشاورت کی جائے گی۔حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ کی پیشی کی تاریخ میں دو دن کی توسیع کا حتمی فیصلہ جلد متوقع ہے۔ واضح رہے کہ یہ بجٹ کی تاریخ میں دوسری بار تبدیلی ہوگی۔
دوسری جانب اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ نئے مالی سال کا بجٹ 10 جون کو ہی پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی تاریخ میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے جبکہ اے پی سی سی کے اجلاس کی تاریخ کا تعین ابھی تک نہیں کیا گیا۔سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل مذاکرات آج پھر ہوں گے، جن میں تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے کو ریلیف دینے پر بات چیت ہوگی۔انہوں نے واضح کیا کہ نئے مالی سال کے بجٹ اہداف اور ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور بجٹ کو آئی ایم ایف کی مشاورت سے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کی تاریخ میں دوسری بار تبدیلی کا امکان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
