کابل/واشنگٹن ،افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا، امریکا اور برطانیہ نے افغانستان سے شہریوں کو نکالنے کیلئے فوج تعینات کرنے کا اعلان کر دیا،امریکا نے طالبان سے کابل میں سفارتخانے پر حملہ نہ کرنے کی اپیل بھی کر دی ۔
تفصیلات کے مطابق طالبان کا شدید ترین مخالف کمانڈر اسماعیل خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہرات پر قبضے کے بعد طالبان نے اسماعیل خان، گورنر ہرات، نائب وزیر داخلہ اورصوبائی پولیس چیف کو حراست میں لے لیا۔اسماعیل خان کے ہمراہ لڑنے والے 207 کمانڈوز نے بھی ہتھیار ڈال دیے۔ طالبان نے قیدیوں کو نقصان نہ پہنچانے اور ان سے عزت کے ساتھ پیش آنے کی یقین دہانی کرادی۔طالبان نے ہرات ائیرپورٹ سے بھارتی لڑاکا طیارہ بھی قبضے میں لے لیا۔ اس سے پہلے قندوز ائیر پورٹ سے بھارتی ہیلی کاپٹر طالبان کے ہاتھ آیا تھا۔ طالبان نے صدر اشرف غنی کے آبائی صوبے لوگر پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ افغانستان میں حکام کے مطابق افغان طالبان نے دارالحکومت کابل سے محض 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع صوبہ لوگر کے دارلحکومت پلِ علم پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل طالبان نے قندھار اور جنوب میں اہم شہر لشکر گاہ پر بھی قبضہ کرلیا تھا اور افغان سکیورٹی ذرائع نے اس کی تصدیق بھی کردی تھی۔قندھار اور لشکر گاہ کی فتح کے بعد اب افغانستان کی حکومت کے ہاتھ میں صرف ملک کا دارالحکومت اور دیگر کچھ علاقے باقی بچے ہیں۔دوحہ میں موجود طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ خارجی قوتوں کی جانب سے مسلط کی گئی حکومت کو تسلیم کرنا ان کے اصولوں کے خلاف ہے۔علاوہ ازیں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعوی کیا ہے کہ امریکا نے طالبان سے سفارتخانے پر حملہ نہ کرنے کی گارنٹی مانگ لی ہے۔امریکا نے افغانستان سے سفارتی عملہ نکالنے کی ہنگامی تیاریاں شروع کر دیں۔پینٹا گون کے مطابق 3ہزارامریکی فوجی 24سے 48گھنٹے میں کابل پہنچ جائیں گے تاہم یہ فوجی طالبان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ترجمان امریکی دفترخارجہ نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ کابل میں سفارت خانہ کھلا رہے گا اورکام جاری رہے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی شہری واپس بلانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم افغان عوام کو تنہا چھوڑ دیں گے۔نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ امریکا نے افغانستان میں ہر شعبے میں سرمایہ کاری کی ہے، صدر جو بائیڈن نے افغان فوج کے لیے 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم رکھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی سفارتخانہ کام کرتا رہے گا اور انتہائی ضروری عملہ تعینات رہے گا۔برطانیہ نے بھی افغانستان سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے 600 فوجیوں کو بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ چار ہزار برطانوی شہری اب بھی افغانستان میں مقیم ہیں۔دوسری طرف افغانستان میں طالبان کی مسلسل پیش قدمی کے باعث ایران کو اپنے سفارتکاروں کی فکر لاحق ہوگئی۔ایرانی وزارت خارجہ نے جمعے کو طالبان کی جانب سے افغانستان کے شہر ہرات میں قبضے کے بعد وہاں موجود ایرانی سفارت کاروں کی سکیورٹی کی ضمانت مانگ لی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد پر فکر مند ہے اور طالبان کی جانب سے ہرات پر قبضے کے بعد ایران اپنے سفارتی مشن اور وہاں موجود سفارتی عملے کی زندگیوں کی مکمل حفاظت کا مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہرات میں موجود اپنے عملے سے رابطے میں ہیں۔امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد ہرات شہر کو طالبان نے حکومتی فورسز سے چھین لیا ہے جبکہ جمعے کو طالبان نے افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار پر بھی قبضہ کرلیا ہے، اس وقت صرف کابل اور دیگر علاقے حکومت کے پاس ہیں۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے مغربی ایشیا کے سربراہ رسول موساوی نے کہا کہ ہرات میں ان کے سفارتی مشن میں شامل عملہ بلکل ٹھیک ہے۔ انہوں نے عملے کی تعداد نہیں بتائی مگر ان کا کہنا تھا کہ عملہ اب بھی قونصل خانے میں موجود ہے اور افغان فورسز، جنہوں نے اب شہر کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے انہوں نے ایرانی قونصلیٹ ، سفارتکاروں اور عملے کی مکمل حفاظت کی ضمانت دی ہے۔ایرانی خبررساں ایجنسی نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ قونصلیٹ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بند کردیا گیا ہے۔یاد رہے کہ امریکا اور برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کو افغان دارالحکومت سے نکالنے کیلئے جمعے کو ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
امریکا کی طالبان سے سفارتخانے پر حملہ نہ کرنے کی درخواست، 19 دارالحکومتوں پر طالبان کا قبضہ ہو گیا ، افغان حکومت چند علاقوں تک محدود
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
