تحریر: سید لعل حسین بُخاری
@lalbukhari
ٹوکیو اولمپکس سے ایک اچھی آئی ہے کہ ہمارا ایک نوجوان ارشد ندیم جیولن تھرو مقابلوں کے کوالیفائنگ راونڈ میں کامیابی حاصل کرکے میڈلز کے فائنل مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔اللہ کرے کہ کامیابی اس نوجوان کے قدم چومے اور سبز ہلالی پرچم بلند ہو۔ تاریخی طور پر اولمپکس کھیلوں کا انعقاد دنیا بھر کے لئے بہت ہی دلچسپی کا باعث ہوتا ہے بدقسمتی کہ ہم پاکستانیوں کو جو کبھی تھوڑی بہت دلچسپی ہاکی میں ملنے والے متوقع میڈل کی وجہ سے ہوتی تھی۔وہ بھی ناقص کارکردگی کے سبب ختم ہو چُکی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان مسلسل خالی ہاتھ لوٹ رہا ہے۔جبکہ پاکستان اولمپک کمیٹی میں وہی ایک شخص بطور سربراہ براجمان ہے،جو اس ناقص کارکردگی کا ذمہ دار ہے۔ اس تیسرے درجے کی کارکردگی کے باوجود اس شخص کو اس عہدےسے کیوں ہٹایا نہیں جا رہا؟
یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟
کیا ارباب اختیار بتا سکتے ہیں کہ یہ شخص کیوں ناگزیر ہے؟
کچھ عرصہ قبل تک ہاکی میں کوئی نہ کوئی میڈل یقینی ہوتا تھا۔ ہاکی کے علاوہ باکسنگ یا کسی اور شعبے میں ملنے والا میڈل بونس ہوتا تھا۔ اولمپکس کے نتائج ٹیبل پر عمومی طور پر چین، امریکہ، برطانیہ، اورآسٹریلیا جیسے ملکوں کا تسلط رہتا ہے یا پھر ان کے ساتھ اس سال کا میزبان ملک جیسے اس دفعہ جاپان ہےاس ٹیبل میں جگہ بنا کے پوائینٹس کی دوڑ میں شامل ہوجاتا ہے۔ ماضی کے اولمپکس کھیلوں میں پاکستان کے سنسنی خیز ہاکی میچز کون بھول سکتا ہے،جس وقت یہ میچز ہوتے تھے،سڑکیں سنسان ہوجایا کرتی تھیں۔ لوگ آدھی آدھی رات کو ان گھروں میں جا کرمیچز دیکھتے تھے،جہاں ٹیلی وژن ہوتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے،جب ڈیجیٹل سٹیلائیٹ چینلز وجود میں نہیں آئے تھے۔
اس وقت یہ میچز صرف پی ٹی وی یا ریڈیوپاکستان کی وساطت سے ہی دیکھے اور سُنےجاتے تھے۔ ہاکی میچز کے دوران کی جانے والی کمنٹری رگوں میں سنسنی پھیلا دیا کرتی تھی۔لوگوں کا جوش وخروش دیدنی ہواکرتا تھا۔ لوگ اپنی دیگرمصروفیات ہاکی میچ کی وجہ سے ترک کردیا کرتے تھے-
اس وقت پاکستان کی ہاکی ٹیم اتنی تگڑی ہوا کرتی تھی کہ بیلجیم،ارجنٹائن،روس وغیرہ جیسی ٹیموں کے خلاف ہم یکطرفہ مقابوں سے جیتتے تھے۔ اورحریف ٹیمیں شکست کھاکر بھی فخرمحسوس کرتی تھیں۔ اب ان ملکوں سے بھی جیتنا خواب بن چکا ہے۔
اس وقت ہمارے سخت اور دلچسپ مقابلے جرمنی،ہالینڈ،آسٹریلیا اوربھارت سے ہوا کرتے تھے۔برطانیہ جیسی ٹیمیں ہمارے خلاف میچ ڈراکرلینا اپنی جیت سمجھتی تھیں۔ پاکستان کے خلاف میچز میں ان کا اندازمکمل دفاعی ہوتا تھا۔ جبکہ جارحانہ کھیل ہماری ٹیم کا طرہ امتیاز ہوتا تھا۔ ہماری ٹیم کا سنٹر فارورڈ اوردیگر آگے کھیلنےوالے کھلاڑی بلا کے پھرتیلے اور چست ہوتے تھے- پاکستان کی ٹیم میں بیک وقت کئی کئی سٹار کھلاڑی موجود ہوتے تھے،جن کا نام ہی دوسری ٹیموں کو پسینے چھڑا دیتا تھا۔
اس سہانے دور کے بعد ہاکی جیسے کھیل میں ایک ایسی اندھیری رات شروع ہوچکی ہے،جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی نتیجہ صفر ہے۔
ملک میں پچھلی کئی دہائیوں سے جاری کرپشن نے ہاکی کے قومی کھیل کا بھی بیڑہ غرق کر دیا ہے۔
گراس روٹ لیول پر یہ کھیل ناپید ہوچکا ہے جبکہ ماضی میں بین الاضلاعی ٹورنامنٹس بھی منعقد ہواکرتے تھے،جن سے ٹیلنٹ ابھر کرسامنے آیا کرتا تھا۔ مگر اب تو حال یہ ہوچکا ہے کہ نئی نسل کو پتہ ہی نہیں کہ ہاکی کا کھیل بھی کوئ کھیل ہے۔ اب کسی کو ہاکی کے کھیل سے دلچسپی نہیں رہی۔ کسی کو ہاکی ٹیم کے کپتان تک کا نام بھی پتہ نہیں ہوتا۔ وجہ صرف اور صرف ناقص کارکردگی اوراس ناقص کارکردگی کے پیچھے اقربا پروری،رشوت ستانی اور سفارشی کلچر ہے،جو بحیثیت قوم ہمیں کھیلوں،معیشت سمیت ہر شعبے میں تباہ کرچکا ہے۔
موجودہ وزیر اعظم عمران خان نیک نیتی سے کام کر رہے ہیں۔ان کی دیانتداری پر کسی کو شبہ نہیں۔
ان کے سامنے بے شمار چیلنجز ہیں۔ ان سب چیزوں کو درست کرنے میں یقینا” وقت لگے گا
مگر کرکٹ اور ہاکی جیسے کھیلوں میں میرٹ اور پھر کارکردگی اسی وقت آسکتی ہے،جب وزیر اعظم کی اپنی ٹیم میں سارے سپر فٹ کھلاڑی ہوں۔
اولمپکس اور پاکستان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
