اسلام آباد،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں کلبھوشن یادیو کے لیے قانون سازی کے بجائے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی تجویز دے دی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس بیرسٹر علی ظفر کی زیر صدرات منعقد ہوا جس میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے پر نظرثانی بل کو دوبارہ زیر غور لایا گیا۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بل پر بحث سے قبل عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا حوالہ دینا پڑے گا، کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ کو گرفتار کیا گیا اور 10 اپریل 2017 کو سزا سنائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں 8 مئی 2017 کو درخواست دائر کی تھی جس کے تحت ویانا کنونشن کے مطابق قونصلر کی رسائی دی جاتی ہے تاہم یہ معاملہ اس نکتے پر اٹکا کہ قونصلر رسائی دینی ہے یا نہیں۔کمیٹی نے کہا کہ کلبھوشن یادیو سے متعلق فیصلے کی نقل فراہم کرنے کا کہا تھا، کلبھوشن یادیو سے متعلق فیصلے کی نقل فراہم نہیں کی گئی، جب تک ارکان فیصلہ نہیں پڑھیں گے تب تک آپ فیصلہ نہیں کر سکتے۔پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آپ نے مطمئن کرنا ہوگا کہ ایکٹ لانا کیوں ضروری ہے، عالمی عدالت انصاف نے ہمیں باونڈ نہیں کیا کہ قانون سازی کریں بلکہ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر قانون سازی ضروری ہو تو کریں۔مسلم لیگ(ن)کے رہنما اور کمیٹی کے رکن اعظم تارڑ نے کہا کہ کلبھوشن یادیو دشمن ملک سے ہے اور اس کو نظرثانی دی جا رہی ہے، جن لوگوں کو ملٹری کورٹس نے سزائیں دیں، ان کو یہ حق کیوں نہ دیا جائے؟، اگر قانون سازی کرنی ہے تو سب کے لیے کیوں نہیں؟۔فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ نظرثانی سے متعلق آرمی ایکٹ میں ترمیم کیوں نہ کی جائے؟ جس پر تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کا معاملہ نہ کھولا جائے۔کمیٹی کے چیئرمین بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آپ کے قانون میں ایک غلطی نظر آ رہی ہے، ایک جاسوس جس نے اتنی دہشت گردی پھیلائی، آپ اس کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں۔ جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما کامران مرتضی نے کہا کہ دشمن ملک کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں اور اپنے شہریوں کو یہ حق نہیں دے رہے۔اس مو قع پر وزیر قانون نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہم کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق نہیں دے رہے، اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں تو پھر آپ نے یہ قانون پڑھا ہی نہیں ہے۔اس پر کامران مرتضی نے کہا کہ اپیل کا حق نہیں بلکہ آپ نظرثانی کا حق دے رہے ہیں۔دوران اجلاس وفاقی وزیر فروغ نسیم اور مصدق ملک کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جس میں مسلم لیگ(ن)کے رہنما نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں جو حق ایک کو دیا جا رہا ہے وہ سب کو دیا جائے۔اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ ایک سوال بار بار نہ کریں جس پر مصدق ملک نے کہا کہ کیا میں بات نہ کروں، چلا جاں؟، آپ بات سنیں ہم بات کریں گے۔جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ ایک ہی سوال بار بار نہیں سنا جائے گا جس پر مصدق ملک نے سوال کیا کہ کیا آپ چیئرمین ہیں؟، جوابا وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر میں چیئرمین نہیں، تو آپ کا نوکر بھی نہیں ہوں، آپ جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہیں۔دوسران اجلاس پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ فرض کریں کہ اگر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرتے تو پاکستان کے اس پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، کیا یہ درست نہیں کہ کچھ کیسز میں عالمی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔فروغ نسیم نے جواب دیا کہ اگر تمام ارکان اپنے سوالات تحریری طور پر دے دیں تو بہتر رہے گا، اگر اس قانون پر عملدرآمد نہ ہوا تو بھارت ہمارے خلاف عالمی عدالت انصاف میں توہین کی درخواست لانے کے ساتھ ساتھ بھارت ہمارے خلاف سیکیورٹی کونسل میں قرارداد لائے گا، اس قانون کی وجہ سے بھارت آج تک ہمارے خلاف کچھ نہیں کر سکا۔اس پر رضا ربانی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں کہیں بھی توہین کا حوالہ نظر نہیں آ رہا۔
سینیٹ قانون انصاف کمیٹی کا اجلاس، کلبھوشن کیلئے قانون سازی کے بجائے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی تجویز
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
